• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 56343

    عنوان: نشے كی حالت میں طلاق

    سوال: پہلی مرتبہ طلاق بائن سعودی عربیہ میں رہتے ہوئے ایک طلاق دی ، چھٹی پہ آئے پھر واپس چلے گئے، پھر تین سال کے بعد دوسری طلاق دی ، پھر سعودی عربیہ چلے گئے، پھر چار سال کے بعد واپس ہندوستان آکر تیسری طلاق دی، اس کے بعد جامعہ نظامیہ (حیدر آباد) رجوع ہوا معاملات کے لیے ، وہاں سے فتوی ملا ،مفتی صاحب نے فرمایا کہ دو طلاق نہیں ہوئی جو سعودی سے جاتے آتے وقت دی تھی کیوں کہ اس کے بعد رجوع نہیں کیا ، ایک ہی طلاق ہوئی ، توبہ استغفار کرکے پھر سے نکاخ کرو․․․․ بول کے فرمایا (تجدید نکاح) ہوا، پھر اس کے ڈیڑھ سال بعد حالت نشہ اور شدید غصے کی حالت میں پچیس سال کی لڑکی اور چوبیس سال لڑکے کے سامنے دونوں کو گواہ بنا کر ایک ساتھ تین طلاق دی ، کیا یہ تیسری طلاق سے نکاح ٹوٹ گیا یا نہیں؟کیا کسی بھی مسلک میں کچھ گنجائش ملتی ہے جس سے نکاح ٹوٹنے سے بچتاہے تو اس کا بھی جواب عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 56343

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 47-40/N=1/1436-U صورت مسئولہ میں شوہر نے پہلی طلاق طلاق بائن دی، اسکے بعد دونوں نے نکاح نہیں کیا ور شوہر نے تین سال کے بعد دوسری طلاق اور چار سال کے بعد تیسری طلاق دیدی تو اگر عورت ممتدة الطہر نہیں ہے یعنی دوسری طلاق کے وقت عورت کی عدت پوری ہوچکی تھی تو اس صورت میں عورت پر صرف ایک طلاق واقع ہوئی، دوسری اور تیسری طلاق اس پر واقع نہیں ہوئی لیکن اسکے بعد شوہر نے باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرکے ڈیڑھ سال کے بعد نشہ اور سخت غصہ کی حالت میں ایک ساتھ جو تین طلاقیں دیں اس سے بیوی مغلظہ بائنہ ہوکر اس پر حرام ہوگئی اور اب ائمہ اربعہ کے نزدیک حلالہ شرعی سے پہلے دونوں کے درمیان حلت اور جواز نکاح کی شرعاً کوئی صورت نہیں رہی۔ اور اس سلسلہ میں ایک گمراہ فرقہ یعنی غیر مقلدین کی جو رائے ہے یعنی: ایک مجلس میں دی ہوئی تین طلاقوں کے ایک ہونے کی رائے یہ دلائل کی روشنی میں ہرگز قابل عمل نہیں ہے؛ لہٰذا کسی غیر مقلد کے جھانسہ میں آکر حرام کاری میں ملوث ہونے سے پرہیز کیا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند