• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 55757

    عنوان: خلع میں خلع کے الفاظ اور طلاق علی المال میں مال کا ذکر لازم ہوتا ہے،

    سوال: میں اگر بیوی کو کہوں کہ اگر فلاں دن کے بعد اگر تم دفتر گئیں تو میری طرف سے تمہیں طلاق ہے ، ہو سکتا ہے کہ طلاق کے خوف سے وہ ملازمت چھوڑ دے اور ہمارے گھر کے مسائل کم ہو جائیں، بصورت طلاق تو واقع ہو جائے گی لیکن کیا اس صورت میں جبکہ طلاق کا ہونا یا نہ ہونا اس کے اختیار میں چلا جائے گا، کی صورت میں بھی مجھے پورا حق مہر ادا کرنا پڑے گا یا اسے خلع تصور کیا جائے گا کیونکہ طلاق واقع ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ تو اس کی مرضی سے ہوگا اور اختیار بھی اسی کا ہوگا۔

    جواب نمبر: 55757

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1429-1428/N=12/1435-U آپ نے طلاق معلق کے جو الفاظ ذکر کیے ہیں ان میں خلع یا طلاق علی المال کا کوئی معنی نہیں ہے؛ کیوں کہ خلع میں خلع کے الفاظ اور طلاق علی المال میں مال کا ذکر لازم ہوتا ہے، نیز عورت کا قبول کرنا بھی شرط ہوتا ہے؛ لہٰذا صورت مسئولہ میں جب شرط پائی جائے گی یعنی: عورت کسی متعینہ دن کے بعد دفتر جائے گی تواس پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی اور آپ پر اس کا پورا حق مہر ادا کرنا واجب ہوجائے گا۔ یہ اور بات ہے کہ تعلیق میں شرط عورت کا ایک اختیاری فعل ہے جس کی بنا پر شرط کا وجود اسی کی طرف سے ہوگا، مگر اس سے یہ خلع یا طلاق علی المال نہ بنے گا؛ کیوں کہ طلاق میں محض عورت کا اختیار یا عمل دخل اسے خلع یا طلاق علی المال نہیں بناتا اور اس کی وجہ سے عورت کا مہر ساقط نہیں ہوتا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند