• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 5401

    عنوان:

    کیا دو طلاق بھی طلاق رجعی ہوتی ہے اورطلاق دیتے وقت رجعی کہنا پڑے گا؟ (۲) کیا طلاق بائن کے لیے بائن کا لفظ استعمال کرنا پڑے گا؟ (۳) کیا ایک طلاق بھی طلاق بائن ہوسکتی ہے؟

    سوال:

    کیا دو طلاق بھی طلاق رجعی ہوتی ہے اورطلاق دیتے وقت رجعی کہنا پڑے گا؟ (۲) کیا طلاق بائن کے لیے بائن کا لفظ استعمال کرنا پڑے گا؟ (۳) کیا ایک طلاق بھی طلاق بائن ہوسکتی ہے؟

    جواب نمبر: 5401

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 692=637/ د

     

    اگر صریح الفاظ میں طلاق دی ہے تو ایک اور دو طلاق رجعی ہوگی اس میں رجعی کہنے کی ضرورت نہیں ہے اور بعض کنائی الفاظ بھی ایسے ہیں جن سے طلاق رجعی ہی واقع ہوتی ہے، جیسے انت واحدةٌ والتفصیل فی کتب الفقہ․

    (۱) نہیں۔ کنائی الفاظ اکثر ایسے ہیں جن سے طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے، بائن کا کلمہ خود بھی کنائی ہے اس کے کہنے سے بھی عند النیة طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے۔

    (۳) جی ہاں ! اگر کنائی الفاظ کے ذریعہ ایک مرتبہ طلاق دیا ہے تو ایک بائن پڑے گی والتفصیل مذکور فی کتب الفقہ والفتاوی فلیراجع.


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند