• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 53993

    عنوان: میری شادی کو دس سال ہوچکے ہیں اور بچے بھی ہیں ، میری بیوی سے نہیں بن پارہی ہے ،دونوں لوگوں کی سوچ بالکل الگ ہے اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں ہمارے پورے لوگوں کو کسی بڑی مشکل میں ڈال دے اور میں نے سوچا ہے کہ دونوں لوگ الگ ہوجائیں۔ براہ کرم، مجھے صحیح راستہ بتائیں۔ شوہر کی نافرمانی عادت سی بن گئی ہے جیسے میرے والدین کو ہر بات پر بھلا برا بولنا ،گھر میں فتنہ برپا کرنا ، شوہر کے منع کرنے کے باوجود بھی باہر کسی رشتہ دار کے ساتھ گھرسے نکل جانا وغیرہ ۔

    سوال: میری شادی کو دس سال ہوچکے ہیں اور بچے بھی ہیں ، میری بیوی سے نہیں بن پارہی ہے ،دونوں لوگوں کی سوچ بالکل الگ ہے اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں ہمارے پورے لوگوں کو کسی بڑی مشکل میں ڈال دے اور میں نے سوچا ہے کہ دونوں لوگ الگ ہوجائیں۔ براہ کرم، مجھے صحیح راستہ بتائیں۔ شوہر کی نافرمانی عادت سی بن گئی ہے جیسے میرے والدین کو ہر بات پر بھلا برا بولنا ،گھر میں فتنہ برپا کرنا ، شوہر کے منع کرنے کے باوجود بھی باہر کسی رشتہ دار کے ساتھ گھرسے نکل جانا وغیرہ ۔

    جواب نمبر: 53993

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1122-1122/M=10/1435-U شادی کو دس سال ہوگئے، بچے بھی ہیں، اب اس مرحلے میں علیحدگی کے بارے میں سوچنا بچوں کے حق میں خرابی کا باعث بن سکتا ہے، ناگزیر صورت حال میں طلاق دینے کی گنجائش ہے، لیکن انجام اور مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور فرماکر قدم اٹھائیں، صورت مسئولہ میں بہتر ہے کہ بیوی کو حکمت اور تدبیر سے سمجھاکر موافقت پیدا کرنے کی ہرممکن سعی کریں، والدین کے ساتھ رہنے کی وجہ سے جھگڑے زیادہ ہوتے ہوں تو الگ رہ کر دیکھیں اور دور رہ کر والدین کی جس قدر خدمت کرسکتے ہوں اس میں دریغ نہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند