• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 53857

    عنوان: ماں نے بول دیا کہ اپنی بیوی کو چھوڑ دو تو کیا چھوڑدینے کا حکم ہے اسلام میں ؟میں نے سنا ہے کہ چھوڑدینا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟

    سوال: میری ماں اکیلی رہتی ہیں آج، میں ان کا ایک ہی بیٹا ہوں ، میری شادی ہوئے دو سال ہوگئے ہیں، میری بیوی بہت بے دین ہے اور بہت بدتمیز ہے،میری ہمیشہ سے یہی کوشش رہی کہ میں اپنی بیوی کو اچھے سے سدھاروں اوردینی تعلیم دیتارہوں تاکہ وہ اللہ کے ڈر سے سدھرجائے ، پر وہ بالکل نہیں سدھرتی ، بس اپنا ہی کرتی جاتی ہے، ہم میاں بیوی کے درمیان کبھی لڑائی نہیں ہوئی ،الحمد للہ۔ بس میری ماں اپنی دو آنکھ سے دیکھتی ہیں کہ میری بیوی ان کے بیٹے کو کتنا ستاتی ہے ، میری ماں ماشاء اللہ بہت دیندار ہیں اور ظاہر سی بات ہے کہ ہم سے زیادہ تجربہ کار ہیں ، وہ ہر چیز دیکھتے ہوئے اور سمجھتے ہوئے بولتی ہیں کہ بیٹے اپنی بیوی سے الگ ہوجاؤ، وہ تمہارا ساتھ نہیں دے گی کبھی ، اور تمہاری اولاد کو غلط پرورش ملے گی اور اگر اللہ کا ڈر نہ ہو توبے دین ہی رہے گی تو بہت برا ہوگا نسل نسل ۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر ماں نے بول دیا کہ اپنی بیوی کو چھوڑ دو تو کیا چھوڑدینے کا حکم ہے اسلام میں ؟میں نے سنا ہے کہ چھوڑدینا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟

    جواب نمبر: 53857

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1037-813/L=9/1435-U بیوی میں اخلاق یا دینی کمی ہونے کی وجہ سے ماں لڑکے کو طلاق دینے کو کہہ رہی ہے جس سے ماں کا مقصد مستقبل میں بیٹے کو دینی یا دنیوی نقصان سے بچانا ہے اور طلاق دینے کے نتیجے میں بیٹے کو کسی قسم کا ضرر شدید لاحق ہونے کا اندیشہ نہ ہو توماں کا کہنا ماننا او ر بیوی کو طلاق دیدینا جائز ہے۔ اور اگر بیوی میں ایسی اخلاقی اوردینی کمی جس سے شوہر کے دین یا دنیا کے نقصان کا اندیشہ ہو نہ پائی جاتی ہو یا بیوی کو چھوڑنے پر شوہر کو ضرر شدید پہنچنے کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں بیوی یا اپنا حق ضائع کرنا، اور ماں کا کہنا ماننا جائز نہیں۔ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کا ایک مختصر سا رسالہ ”تعدیل حقوق الوالدین“ بہشتی زیور گیارہویں حصے کے آخر میں شامل ہے، اس میں تفصیل کے ساتھ اس بات کو سمجھایا گیا ہے جس کا خلاصہ ان کے ہی تحریر فرمودہ ایک جملہ میں یہ ہے: ”اور اسی کلیہ سے ان فروع کا بھی حکم معلوم ہوگیا کہ مثلاً وہ (والدین) کہیں کہ اپنی بیوی کو بلاوجہ معتد بہ طلاق دیدے تو اطاعت واجب نہیں“۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند