• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 53732

    عنوان: تحریری طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے

    سوال: میرا سوال یہ ہے کہ میں بیرون ملک (عرب متحدہ امارات) میں ملازمت کرتاہوں، یہاں مجھے ابھی چار یا پانچ مہینے ہوئے تھے کہ پیچھے سے میری بیوی نیمجھ سے بہت دفعہ طلاق مانگی اور کہا کہ مجھے آزاد کردو اور اس کے علاوہ میرے گھر میں بھی کوئی مسئلہ تھا ، اس وجہ سے اور پھر مجھے مجبور ہو کر طلاق دینی پڑی اورپھر میں نے یہاں سے اپنی بیوی کو کاغذکے ذریعہ طلاق دی ہے اور کاغذ بھی ایک ہی ارسال کردیا ہے، لیکن اس کے اوپر طلاق تین (ثلاثہ ) لکھا ہوا تھا ، اس پر میرے اور دو گواہوں کے دستخظ بھی تھے ، کیا اب وہ طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟ براہ کرم، یہ سوال شائع نہ کریں ۔ یہ میرا ذاتی مسئلہ ہے؟

    جواب نمبر: 53732

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1099-768/L=10/1435-U تحریری طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے اس لیے اگر آپ نے اپنی بیوی کو تحریراً طلاق نامہ تحریر کرکے ارسال کردیا ہے اور اس میں تین طلاق دینا مذکور ہے تو اس کی رو سے تینوں طلاقیں بیوی پر واقع ہوگئیں اور بیوی مغلظہ بائنہ ہوکر آپ پر حرام ہوگئی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند