• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 52961

    عنوان: ایک لڑکی جو خلع لینا چاہتی ہے اپنے شوہر سے مگر اس کے پاس نکاح نامہ موجود نہیں ہے

    سوال: ایک لڑکی جو خلع لینا چاہتی ہے اپنے شوہر سے مگر اس کے پاس نکاح نامہ موجود نہیں ہے اور خلع لینے کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے کچھ خاص باتیں عمر کا فرق اور لڑکا جاہل ہے ، لڑکی بہت پڑھی لکھی ہے ، لڑکا سندھ کا ہے ۔ اور اب لڑکی میں کچھ خاص دلچپسی نہیں رکھتا ، لیکن وہ اپنی عزت کی وجہ سے لڑکی کو طلاق نہیں دیتا ۔ اب لڑکی اس سے جان چھڑا نا چاہتی ہے ، وہ کیا کرے ؟جب کہ اس کے پاس نکاح نامہ نہیں ہے اور اس کے اپنے گھروالے بھی ساتھ نہیں دے رہے ہیں ۔ براہ کرم، بتائیں کہ اس بارے میں اسلام کیا کہتاہے ؟ جزاک اللہ ۔

    جواب نمبر: 52961

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 904-607/L=7/1435-U شادی ہوجانے کے بعد لڑکی کو اب یہی چاہیے کہ وہ کسی طرح شوہر پر راضی ہوجائے؛ البتہ اگر واقعی لڑکی کو یہ اندیشہ ہو کہ اب اس کے لیے اللہ کے قائم کردہ حدود پر باقی رہ پانا دشوار ہے تو ایسی مجبوری کی صورت میں خلع لینے کی گنجائش ہے، خلع کی صورت یہ ہوگی کہ لڑکی مہر معاف کردے یا کوئی اور چیز خلع کے بدل کے طور پر مقرر کردے اور شوہر اس کے بدلے اس کو خلع یا طلاق وغیرہ کے الفاظ سے اپنی زوجیت سے نکال دے، خلع کے لیے نکاح نامہ یا خلع نامہ کی تحریر ضروری نہیں اگر لڑکی کے پاس نکاح نامہ نہیں ہے تو بھی خلع درست ہوسکتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند