• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 51226

    عنوان: مجھے طلاق دیدو یا اپنی امی کو بلاؤ میں انہیں بتاؤں کہ تم غلط حرکت کرتی ہو ، میں تمہیں طلاق دینا چاہتاہوں اس مذكورہ جملے سے طلاق واقع ہوگءی كیا؟

    سوال: میرا نکاح ایک سال پہلے ہواہے اور ابھی اپنے والدین کے ہی گھر پہ ہوں ، میری اپنے شوہر سے فون پر بات ہوتی ہے، دو دن پہلے کسی بات پر ہماری لڑائی ہوئی اور انہوں نے غصے میں یہ لفظ ادا کیا، ” مجھے طلاق دیدو یا اپنی امی کو بلاؤ میں انہیں بتاؤں کہ تم غلط حرکت کرتی ہو ، میں تمہیں طلاق دینا چاہتاہوں“ لیکن تھوڑی دیر بعد انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے غلط بات کہی ہے تو وہ معافی مانگنے لگے، مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کیا ان کے جملوں سے ہمیں طلاق واقع ہوگئی؟یا نکاح قائم ہے؟یا ایک طلاق ہوئی یا بالکل نکاح ختم ہوگیا؟میں بہت پریشان ہوں ۔ براہ کرم، جلد جواب دیں۔

    جواب نمبر: 51226

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 552-584/N=5/1435-U آپنے اپنے شوہر کے جو جملے نقل کیے ہیں، ان میں سے کسی سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، حسب سابق نکاح باقی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند