• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 50586

    عنوان: حلالہ کے بارے میں پوری جانکاری دیں کہ یہ کتنی طلاق کے بعد عائد ہوتاہے اور اس کا طریقہ کیا ہے؟

    سوال: میر ے ساتھ مسئلہ درپیش ہے، مہربانی کرکے حلالہ کے بارے میں پوری جانکاری دیں کہ یہ کتنی طلاق کے بعد عائد ہوتاہے اور اس کا طریقہ کیا ہے؟

    جواب نمبر: 50586

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 412-72/B=3/1435-U حلالہ تدبیر اور قانون نہیں ہے بلکہ یہ حرمت غلیظہ کی غایت اور انتہا ہے اور حلالہ کرنے کی نوبت تین طلاقوں کے بعد پیش آتی ہے، مثلاً ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دیدیں یا الگ الگ مجلسوں میں تین طلاقیں دیدیں تو اب اس کی بیوی مطلقہ مغلظہ ہوکر اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گی اور حلالہ شرعیہ کے بغیر کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی اور حلالہ کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ شوہر اول یہ یقین کرے کہ میری بیوی میرے اوپر حرام ہوگئی ہے اب میں کچھ نہیں کرسکتا ہوں تو عورت پہلے تین حیض مکمل عدت گذارے گی اس کے بعد اس نیت سے دوسرے شخص سے نکاح کرے گی کہ اب یہ ہی میرا شوہر ہے اورددوسرا شخص یعنی شوہر دوم اس عورت کے ساتھ صحبت بھی کرے اور اس کے ساتھ زندگی گذارے بعد میں اگر یہ شوہرِ دوم فوت ہوجائے یا کسی بھی مصلحت کی وجہ سے اس عورت کو طلاق دیدے پھر یہ عورت تین حیض عدت گذارلے، اب یہ عورت اپنے شوہر اول کے لیے حلال ہوگئی اور دوبارہ از سر نو نئے مہر کے ساتھ شوہر اول کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے، اور اگر شوہر دوم صحبت کیے بغیر اس عورت کو طلاق دیدے تو ایسی صورت میں وہ عورت اپنے شوہر اول کے لیے حلال نہ ہوگی، اس وجہ سے کہ حلالہ شرعیہ میں دوسرے شوہر کا صحبت کرنا شرط اور ضروری ہے، چنانچہ قرآن پاک میں ہے: ”فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ“ سورہٴ بقرہ، آیت: ۲۳۰، اور فتاوی ہندیہ میں ہے: وإن کان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتین في الأمة لم تحل لہ حتی تنکح زوجًا غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بہا ثم یطلقہا أو یموت عنہا، کذا في الہدایة (الفتاوی الہندیة: ۱/۵۳۵،مکتبہ اتحاد دیوبند) اور در مختار میں ہے: لا ینکح مطلقة ․․․․ بہا أي بالثلاث ․․․ حتی یطأہا غیرہ․․․ وقال في رد المحتار: ثم اعلم أن اشتراط الدخول ثابت بالإجماع فلا یکفی مجرّد العقد (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/۴۰، ۴۱ مکتبہ زکریا دیوبند) اور اگر اس موقع پر عورت کی طرف سے یہ شرط لگائیجائے کہ صحبت کرنے کے بعد اس کو طلاق دینا ضروری ہے تو یا یہ حلالہ اسی مقصد کے لیے کسی منصوبہ یا پلان کے تحت کیا جائے تب یہ صورت اختیار کرنا گناہ ہے اورحلالہ کرنے والے اورجس کے لیے حلالہ کیا جارہا ہے دونوں لسانِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملعون ہیں، چنانچہ ترمذی شریف میں ایک حدیث ہے: عن عبد اللہ بن مسعود قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المحلل والمحلل لہ․ ہذاحدیث حسن صحیح (ترمذی شریف ۱/۱۳۳(، مگر گناہ کے باوجود حلالہ ہوجائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند