• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 50136

    عنوان: میری بیوی اور میرے درمیان گھریلو ناچاقیاں بہت زیادہ ہیں اور یہ بڑھتے بڑھتے اس حدتک بڑھ گئے کہ میری بیوی نے میرے والدین کے ساتھ تلخ کلامی کی جس پر میرے والد نے مجھے حکم دیا کہ اسے طلاق دے کر گھر بھیج دو ، لیکن میری والدہ نے تقریباً تیس منٹ بعد مجھے الگ کرکے کہا کہ طلاق مت دو ، سمجھ جائے گی ، مجھے کس کے حکم کو بجا لانا چاہئے؟

    سوال: میری بیوی اور میرے درمیان گھریلو ناچاقیاں بہت زیادہ ہیں اور یہ بڑھتے بڑھتے اس حدتک بڑھ گئے کہ میری بیوی نے میرے والدین کے ساتھ تلخ کلامی کی جس پر میرے والد نے مجھے حکم دیا کہ اسے طلاق دے کر گھر بھیج دو ، لیکن میری والدہ نے تقریباً تیس منٹ بعد مجھے الگ کرکے کہا کہ طلاق مت دو ، سمجھ جائے گی ، مجھے کس کے حکم کو بجا لانا چاہئے؟

    جواب نمبر: 50136

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 317-264/B=2/1435-U طلاق دینا کوئی اچھی بات نہیں،اس کام میں عجلت نہ کرنا چاہیے،حتی الامکان بیوی کو سمجھاناچاہیے، شادی کے بعد بیوی کے ساس سسر ماں باپ کے درجہ میں ہوگئے،ان دونوں کا احترام بیوی کو کرنا ضروری ہے، ان کے ساتھ تلخ کلامی کرنا نہایت گستاخی اور بے ادبی اور بے حیائی کی بات ہے، جب ماں امید دلوارہی ہے کہ بعد میں سمجھ جائے گی تو بہتر یہی ہے کہ طلاق دینے میں آپ عجلت نہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند