• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 50009

    عنوان: میری گھر والی نے مجھ سے کہا کہ آزاد کردو میں نے اس سے کہا کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے یہ گناہ تیرے سر رہے گا اس نے کہا کہ اس گناہ کی میں خود ذمہ دار ہوں

    سوال: میری گھر والی نے مجھ سے کہا کہ آزاد کردو میں نے اس سے کہا کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے یہ گناہ تیرے سر رہے گا اس نے کہا کہ اس گناہ کی میں خود ذمہ دار ہوں میں نے اس سے تین بار کہا کہ ”میں نے تجھے آزاد کیا“۔ لیکن میرے دل میں یہ بات تھی کہ اس طرح کہنے سے معاملہ نہیں نپٹنا اگر میرے دل میں معاملہ نپٹانے کی بات ہوتی تو و ہی الفاظ کہتا جس کے کہنے سے تین بار میں سب کچھ ختم ہوجاتا ہے اور کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

    جواب نمبر: 50009

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 263-53/B=2/1435-U یہ جملہ ”میں نے تجھے آزاد کیا“ عُرف میں طلاقِ صریح کے حکم میں ہے اور آپ نے اپنی بیوی کومخاطب کرتے ہوئے اس جملہ کو تین مرتبہ کہا ہے جس کی وجہ سے آپ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں اور آپ کی بیوی مطلقہ مغلظہ ہوگئی ہے اور آپ پر حرام ہوگئی ہے، چنانچہ رد المحتار میں ہے: ”فإنّ ”سرحتک“ کنایة لکنہ في عرف الفرس غلب استعمالہ في الصریح، فإذا قال ”رہا کردم“ أي سرحتک یقع بہ الرجعي مع أن أصلہ کنایة“ (رد المحتار ج۴ ص۵۳۰ مکتبہ زکریادیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند