• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 47703

    عنوان: طلاق كے لوازمات اور ايك فيصله كے بارے ميں شرعي حكم

    سوال: عرض یہ ہے کہ میرے بھائی کا نکاح ایک سال پہلے ہوا تھا بھائی دہلی میں ملازمت کرتے ہیں کچھ پریشانیوں کی وجہ سے نکاح کے فوری بعد اہلیہ کو ساتھ نہیں لے جا سکے البتہ خود آتے اور سمجہاتے رہے بھابھی کے گھروالے تاخیر کی وجہ سے طلاق مانگنے لگے سمجھانے پر بات نہیں بنی تو دارالقضاء میں معاملہ پیش کیا گیا مفتی اشفاق صاحب قاسمی(قاضی صاحب)نے بھی سمجھایا لیکن لڑکی والے طلاق کا مطالبہ کرتے رہے ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ ہمیں مہر ہمارا سامان اور شادی کے خرچ کے دس لاکھ روپیہ دیے جائیں ہم مہر اور سامان دینے پر راضی تھے مفتی صاحب نے فرمایا کہ شادی خرچ کا مطالبہ شرعاً درست نہیں ہے لیکن ہم خرچ دلواتے ہیں تاکہ لوگ کورٹ میں نہ جائیں پھر مفتی صاحب نے ہم سے کہا کہ اگر آپ لوگ تیار نہیں ہوں گے تو یہ لوگ تھانہ جاء یں گے اور آپ کے خلاف جھوٹے مقدمہ داء ر کریں گے پھر آپ کو بے حد پریشانی ہوگی اس لیے معاملہ کو یہیں نمٹا لیں مفتی صاحب نے پھر لڑکی والوں سے بات کی اور ساڑھے تین لاکھ روپیہ کی ادائیگی کا فیصلہ دیادریافت یہ کرنا ہے طلاق کی وجہ سے شوہر کے ذمہ کن چیزوں کی ادائیگی لازم ہوتی ہے؟ کیا یہ فیصلہ درست ہے اور اس پرعمل فرض ہے؟

    جواب نمبر: 47703

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1359-1032/B=11/1434-U لڑکی والے اگر طلاق لینے پر بضد ہیں تو طلاق کے بعد لڑکی کا پورا مہر شوہر کے ذمہ واجب ہوگا اور جو سامان جہیز میں خاص داماد کو دی گئی ہیں، انھیں چھوڑکر بقیہ سامان مہر واپس کیے جائیں گے۔ شادی کے اخراجات کا مطالبہ کرنا یہ بڑے ظلم وزیادتی کی بات ہے، یہ ناحق مطالبہ ہے، یہ مطالبہ شرعاً درست نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند