• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 46891

    عنوان: وہ بیوی دل سے گئی گئی گئی كہنے كا حكم

    سوال: میری بہن کا نکاح 2012 کے دہلی اجتماع میں ہوا تھا، لیکن اس کی رخصتی نہیں ہوپائی تھی ، دولہا چاہتا تھا کہ جلد ہی رخصتی ہو ،لیکن کسی وجہ سے رخصتی نہیں ہوسکی ، کچھ دن پہلے ددولہا کا فون آیا تھا کہ اس نے فون پر امی سے کہا کہ’ ’وہ (میری بہن ) میرے دل سے گئی ، گئی، گئی(تین دفعہ)، وہ اپنے باپ کی گود میں بیٹھے“۔ سوال یہ ہے کیا اس سے طلاق ہوگئی؟اگر طلاق ہوگئی ہے تو عدت ہوگی یا نہیں؟براہ کرم، جواب دیں۔

    جواب نمبر: 46891

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1085-842/D=10/1434 کبھی کوئی لفظ نہ بولا ہو اور صرف یہی جملہ فون پر کہا ہے کہ ”وہ (بیوی) میرے دل سے گئی گئی گئی (تین دفعہ) تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس تین دفعہ کہے ہوئے الفاظ سے کسی قسم کی کوئی طلاق واقع نہ ہوئی کیونکہ یہ الفاظ طلاقِ صریح یا کنایات میں سے نہیں ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند