• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 46722

    عنوان: اگر كوئی كہے صحیح صحیح بول دیا تو طلاق واقع ہوجائے گی

    سوال: میرا ایک دست ہے ، اس کا اس کی بیوی سے کسی بات پر جھگڑ ا ہورہا تھا تو اس کی بیوی ضد کررہی تھی کہ آپ قرآن کی قسم کھاکہ کہیں کہ آپ سچ بول رہے ہیں(مگر وہ جھوٹ بول رہا تھا)، وہ اس وجہ سے کہ اگر اس نے صحیح صحیح بول دیا تو اس کو طلاق ہوجائے گی تو اس نے قرآن اٹھا کہ دل ہی دل میں اللہ سے معافی مانگ رہا تھا کہ اے اللہ میں تیری کتاب اٹھا کہ جھوٹ بول رہا ہوں مجھ کو معاف کردے بس ایک بار ، بہت مجبوری ہے اگر ابھی جھوٹ نہیں بولا تو سب ختم ہوجائے گا۔ اس نے شادی سے پہلے ایک گنا ہ کیا تھا تو اس کی بیوی نے پوچھا کہ آپ نے یہ کیا ہے یا نہیں؟ اور مجھ کو قرآن اٹھا کہ بتائیے تو یقین کروں گی تو اس نے اپنا گھر بچانے کے لیے اٹھا لیا تو اس کے بارے میں بتادیں کہ اب اس کو کس قسم کا کفارہ دینا ہوگا؟

    جواب نمبر: 46722

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1101-882/H=10/1434 ”صحیح صحیح بول دیا تو طلاق واقع ہوجائے گی اھ“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قسم کے الفاظ جو کچھ بیوی نے کہلوائے ان میں طلاق کا بھی ذکر تھا اگر ایسا ہے تو قسم کے الفاظ اور طلاق کے الفاظ جو شوہر نے بولے تھے ان کو صاف صحیح واضح لکھوائیے، ان شاء اللہ اس کے بعد تفصیل سے جواب لکھ دیا جائے گا، اگر قسم کے تکلم میں طلاق کا کوئی لفظ تھا ہی نہیں تو اس کو بھی صاف صحیح لکھ دیں اور جو کچھ لکھیں، اس کی تصدیق بیوی سے بھی کرالیں تاکہ نزاع قطع ہوجائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند