• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 46586

    عنوان: یہ الفاظِ قسم نہیں بلكہ الفاظِ تعلیق ہیں۔

    سوال: اگر کوئی شخص ایسی قسم کھائے کہ اگر میں نے فلاں کام کیا تو مجھ پر میری بیوی حرام ہے یا اسے طلاق ہے اور پھر اسی کام کو کسی صورت میں کرنا پڑے تو کیا ایسی صورت میں اس کا نکاح اس کی بیوی سے ختم ہوجاتاے یا پھر قسم توڑنے کا کفارہ ادا کرکے اس سے بچ سکتاہے؟ از راہ کرم، جواب دیں۔

    جواب نمبر: 46586

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1090-1090/M=9/1434 اگر آپ نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں کہ: ”اگر میں نے فلاں کام کیا تو مجھ پر میری بیوی حرام ہے یا اُسے طلاق ہے“ تو یہ تعلیق ہے یہ قسم نہیں ہے، جب آپ وہ کام کرلیں گے تو بیوی کو طلاق ہوجائے گی، قسم توڑنے کا کفارہ کافی نہیں ہوگا۔ البتہ اگر آپ نے طلاق کا لفظ استعمال کیا تھا تو ایک طلاقِ رجعی پڑے گی اور عدت میں آپ کو رجعت کا حاصل ہوگا اور اگر حرام کا لفظ استعما ل کیا تھا تو ایک طلاق بائن پڑے گی، ایسی صورت میں نکاح جدید کرکے بیوی کو رکھ سکتے ہیں، وإذا أضافہ إلی شرط وقع عقیب الشرط مثل أن یقول لامرأتہ إن دخلت الدار فأنت طالق (ہدایة: ۲/۳۶۵، ہندیہ: ۱/۴۲۰، زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند