• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 46307

    عنوان: طلاق کے بارے میں معلومات یا فتویٰ‏

    سوال: میری شادی کو ۱۰ سال ہو گئے ہیں میری اپنی بیوی سے لڑائی ہوئی ایک دوسرے لڑکے کے پیچھے جس سے وہ فون پے بات کیا کرتی تھی نوکری کے سلسلے میں اور مجھے غلط فہمی ہو گء جب مجھے اس بات کا پتا چلا اور مینے اسے پوچھا کے تمہاری اس لڑکے سے دوستی ہے جو تم مجھے بغیر بتاے اس لڑکے سے بات کرتی ہوتو وہ نہ مانی جس پے گھسے میں اکے مینے اپنی بیوی کو بغیر کسی نیت کے ۲ بار کہا کے میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اسکے اگلے دن میری بیوی اپنے بھائی کے ساتھ اسکے گھر چلی گئی اور وہاں جانے کے بعد وہ مجھ پے جھوٹے الزام لگاتی ہے کے نکاح کے بعد مینے اسے ۲ بار طلاق دی اسکے بعد ۲ سال پہلے مہینے اسے ۱ طلاق دی اسکے بعد ۶ مہینے پہلے مہینے اسے ایک اور طلاق دی ایسے کل ملے کے ۴ بار جب مہینے اسے ۴ بار طلاق دے دی تھی تو اسے اس وقت کون خیال نہ آیا اور اسکے بعد بھی وہ میرے ساتھ اتنے سالوں تک کیوں رہتی رہی اور نہ میری بیوی کے پاس ان ۴ طلاقوں کے گواہ ہیں جو بقول میری بیوی کے مینے اسے دیں اور اسے اب ۶ بار کے بعد بقول اسکے خیال آرہا ہے کے مینے اسے ۳ سے زائد بار طلاق دی ہے یہ صرف ایک مجھ پی الزام ہے اور دوسرا الزام وہ مجھ پی یہ لگاتی ہے کے میں اسے مارتا پیتا رہتا ہوں جبکہ میرا اللہ گواہ ہے میں غصہ ضرور کرتا ہوں لیکن ۱ بار کے علاوہ مینے اس پے کبھی اصلی ہاتھ نہیں اٹھایا مینے اپنی بیوی کو ہمیشہ اچھے سے اچھا کھلایا پہنایا گھمایا لیکن اگر اب وہ ان تمام باتوں سے مکر رہی ہے تو وہ اللہ کی نہ شکری کر رہی ہے اور تیسرا اور آخری الزام جو میری بیوی مجھ پے لگا رہی ہے وہ یہ کے جس وقت میری بیوی اپنی بھائی کے ساتھ گھر جا رہی تھی اس وقت مینے اسے یہ کہا ہے کے میں تمہیں ۳ بار نہیں ۱۰ بار طلاق دیتا ہوں جبکہ مینے ایسا نہیں کہا مینے صرف یہ کہا تھا تم ۱ بار نہیں مجھ پے ۱۰ بار الزام لگا دو اور اب میری بیوی کہتی ہے کے میرے پاس ۲ گواہ موجود ہیں اور وہ ۲ گواہ وہ ہیں جو میرے سامنے گھر پے رہتے ہیں جو مجھ سے جلتے ہیں اور میرا گھر توڑنا چاہتے ہیں اور میں انکی گواہی پے کبھی یقین نہیں کروں گا اسلئے کے یہ ووہی لوگ ہیں جنہوں نے میری بیوی کو اسکے گھر بھیج دیا بغیر میری اجازت کے اور اس وقت وہاں ۱۰ لوگ موجود تھے جب میری بیوی اپنے بھائی کے ساتھ گھر جا رہی تھی کسی نے یہ الفاظ نہیں سننے سواے ان سامنے گھر والوں کے کیوں کے وہ میرا گھر تڑوانے میں لگے ہوئے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے سے کورٹ میں اپنی بہنوں کے خلاف جھوٹا کیس کے بیٹھے ہیں کے بہنوں کا حصہ نہ دینا پڑے ایسے لوگوں کی گواہی پی میں کبھی یکین نہیں کرونگا یا تو میری بیوی یہ سب کچھ اس لڑکے کے سکھاوے میں اکے کر رہی ہے جو جاب کے سلسلے میں اسے بات کیا کرتا تھا اللہ جانے کے سچائی کیا ہے لیکن یہ مجھے یقین ہے کے میری بیوی یہ سب کچھ کسی کے سکھانے پی کر رہی ہے . اب میری بیوی اپنے بھائی کے گھر جاکے بیٹھ گئی ہے اور کہتی ہے کے ہمنے فتویٰ لے لیا ہے ہماری طلاق ہو گئی ہے جب مینے ۲ بار سے زیادہ طلاق کے لفظ کہے ہی نہیں تو پھر کسی نے کیسے فتویٰ جاری کر دیا ایک طرف کی بات سن کے اور میری بیوی یہ سب کچھ ان لوگوں کے سکھاوے میں اکے کر رہی ہے . براے مہربانی مجھے اسکا کوئی حل باتیں اور مجھے کوئی فتویٰ جاری کر کے دیں اسلئے کے میری ۳ چوٹی بیتیاں ہیں ۱ ۹ سال کی ۱ ۶ سال کی اور ۱ ۳ سال کی اور ان باتوں کی وجہ سے میری بیٹیوں کی زندگی پے بوہوت اثر پر رہا ہے اور انکی زندگی برباد ہو رہی ہے. میری تینو بیتیاں میرے ساتھ ہیں ما انکو نہیں رکھ رہی اسلئے کے اسکے خود کے پاس رہنے کو کوئی جگہ نہیں کبھی ایک بھائی کے گھر تو کبھی دوسرے بھائی کے گھر تو کبھی بھن کے گھر رہ رہی ہے اور سب کو بولتی پھر رہی ہے کے میں عدّت کر رہی ہوں ایسے کیسے کسی نے فتویٰ جاری کر دیا اور میری بیوی ایسے کیسے عدّت کر سکتی ہے وہ بھی مختلف لوگوں کے گھر جاکے یہ سرا سر نہ انصافی ہے میرے ساتھ. براے مہربانی مجھے جلد سے جلد اس مسلے کا حال بتائیں یا فتویٰ جاری کریں تاکہ میں اپنی بیوی کو یہ فتویٰ دکھا کے واپس لا سکوں کے ہماری کوئی ۳ طلاقیں نہیں ہوئیں اور ہمارے پاس ابھی بھی رجو کا حق باقی ہے.

    جواب نمبر: 46307

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1054-365/L=8/1434 سر دست اگر عدت باقی ہے تو آپ دو گواہوں کی موجودگی میں رجعت کرلیں، چونکہ یہ معاملہ نزاعی صورت اختیار کرچکا ہے اس لیے اس کا حل دارالافتاء سے نہیں ہوسکتا، اس مسئلہ کو مقامی شرعی پنچایت میں لے جاکر حل کرلیا جائے، رجعت کا حکم اس لیے لکھ دیا گیا ہے کہ اگر آپ کے حق میں فیصلہ ہو جاتا ہے تو وہی رجعت کافی ہوجائے گی، الگ سے رجعت (اگر عدت باقی ہے) یا تجدید نکاح (اگر عدت گذرچکی ہے) کی ضرورت نہ ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند