• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 43740

    عنوان: طلاق كے بعد غیرمقلدیت اختیار كرنا

    سوال: اگر کسی شخص نے اپنا مسلک تبدیل کیا ،تو اس بنیاد پر اس سے تعلّق توڑنا جائز ہے ؟ہم نے ایک بہن کی طلاق کے بعد اہل ا حدیث کا مسلک کی طرف رجو ع کیا ، تو ہماری دوسری بہن کے سرال والے ہم سے تعلّق ختم کرنا چاہتے ہیں ،کیا ایسا کرنا اخلاقی اور مذھبی طور سے ٹھیک ہے؟

    جواب نمبر: 43740

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 120-99/H=3/1434 تین طلاق واقع ہوجانے کے بعد عورت حرام ہوجاتی ہے، شوہر کو نہ حق رجعت رہتا ہے اور نہ ہی تجدید نکاح بغیر حلالہٴ شرعیہ کا استحقاق ہوتا ہے۔ بخاری شریف ج۲ ص۷۹۱ نیز اس کے علاوہ بہت سی کتب حدیث شروحِ حدیث سے اسی طرح ثابت ہے، اور جب تین طلاق سے بیوی حرام ہوگئی تو اس کے بعد غیر مقلدین کے مسلک کی طرف رجوع کرلینے سے وہ حرام شدہ عورت مرد کے حق میں حلال نہیں ہوتی بلکہ حرام ہی رہتی ہے، اور جو لوگ اس حرام میں تعاون کرتے ہیں ان کا تعاون کرنا بھی حرام اور بڑا گناہ ہے، قرآن کریم میں اللہ پاک کا ارشاد ہے وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الاِثْمِ وَالْعُدْوَان (سورة المائدہ) غالبا آپ لوگ اس حرام تعاون اور گناہ سے سچی پکی توبہ کرکے اصلاح کی طرف رجوع کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوئے ہوں گے اسی سے متأثر ہوکر دوسری بہن کے سسرال والے تعلق ختم کرنا چاہتے ہوں گے؟ اگر ایسا ہے تو اخلاقی اور مذہبی اعتبار سے ان کا تعلق ختم کرلینا درست اور صحیح ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند