• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 42731

    عنوان: طلاق کی نیت نہیں کی تھی تو اس سے بھی کوئی طلاق آپ بیوی پر واقع نہیں ہوئی

    سوال: میں آپ سے مسئلہ جاننا چاہتاہوں کہ میں اپنی بیوی سے فون پر مسیج کے ذریعہ ایک بات پوچھ رہا تھا اور مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ شاید جھوٹ بول رہی ہے، میں نے اس سے کہا کہ اگر تم مجھ سے جھوٹ بول رہی ہو تو میں تمہیں طلاق دیدوں گا تو گویا طلاق ہوئی؟دوسری بات یہ کہ میں اس سے بات کرتے ہوئے انٹرنیٹ پہ ای میل چیک کررہا تھا اور داخلہ ہونے کے بعد مسیج تھا باہر ملک کے تو میں بہت خوش تھا اور اسی وقت خوشی کی حالت میں میں نے اپنی بیوی سے موبائل پر مسیج کے ذریعہ اس کو ڈرانے کے لئے یہ کہا کہ تم ابھی بھی مجھ سے جھوٹ بول رہی ہو ، میرا تم سے رشتہ ختم( نہ میری نیت طلاق کی تھی نہ میرے وہم گمان میں ابھی طلاق دینے کا خدشہ یا ارادہ تھا اور نہ میں غصہ کی حالت میں تھا صرف ڈرانے کی نیت تھی)میں ڈرا رہا تھا کہ اگر جھوٹ بول رہی ہو تو سچ بول دو۔

    جواب نمبر: 42731

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 50-30/L=2/1434 اگر آپ نے میسیج کے ذریعہ بات چیت کی صورت میں یہ الفاظ کہے تھے کہ ”اگر تم جھوٹ بول رہی ہو تو میں تمھیں طلاق دیدوں گا“ بیوی بھی اسی کی گواہی دے رہی ہے تو اس سے کوئی طلاق آپ کی بیوی پر واقع نہیں ہوئی، اگرچہ آپ کی بیوی جھوٹ بول رہی ہو۔ اسی طرح دوسری مرتبہ جو آپ نے یہ الفاظ کہے ہیں کہ تم ابھی بھی مجھ سے جھوٹ بول رہی ہو میرا تم سے رشتہ ختم اس جملہ میں اگر آپ نے ”میرا تم سے رشتہ ختم“ سے طلاق کی نیت نہیں کی تھی تو اس سے بھی کوئی طلاق آپ بیوی پر واقع نہیں ہوئی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند