• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 42496

    عنوان: نیند كی حالت میں طلاق

    سوال: میرا سوال یہ ہے کہ کیا سوتے ہوئے میں طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ نیند میں حالت ایسی ہو کہ انسان اپنی زبان سے کچھ نہیں بولے لیکن کوئی ایسے تین دفعہ اشارے کر دے مثال کے طورپر تین گہرے گہرے سانس لے یکے بعد دیگرے جس سے وہ صبح اٹھنے پر شک میں مبتلا ہو جائے کہ شاید رات کو نیند میں کچھ عجیب ہوا ہے، کیا اس سے نکاح پر کچھ اثر پڑتا ہے؟

    جواب نمبر: 42496

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 2160-1702/B=1/1434 شریعت اسلام میں تین قسم کے لوگ مرفوع القلم قرار دیے گئے۔ ایک نابالغ بچہ، دوسرے مجنون پاگل، تیسرے سویاہوا آدمی۔ یعنی یہ تینوں غیرمکلف ہیں، ان تینوں کا عمل شرعاً معتبر نہیں مانا گیا ہے، لہٰذا سویا ہوا شخص اگر سونے کی حالت میں طلاق زبان سے یا اشارے سے دیتا ہے تو اس کی طلاق معتبر نہ ہوگی وہ طلاق کالعدم ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند