• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 42464

    عنوان: طلاق كے سلسلے میں

    سوال: بڑی مہربانی ہوگی اگر میری مشکل آسان فرمادیں، میرے شوہر میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے ہیں، اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے ہیں، مارتے پٹتے ہیں، بچوں کے سامنے ایسا کرتے ہیں ، ایک دفعہ انہوں نے مجھے دو طلاق دیدی ، ایک بار آٹھ دن بیتے ہوں گے کہ جھگڑا کرکے پھر ایک ساتھ تین طلاق دیدی پھرمیں اپنے والدین کے گھر آگئی ، پھر جھگڑا کرکے فون پر طلاق دیدی ،وہ بضد ہیں مجھے ساتھ میں لے جانے کے لیے، لیکن میرے دل میں جگہ نہیں ہے ، مجھے تو لگتاہے کہ مجھے طلاق ہوگئی ہے۔ براہ کرم، بتائیں کہ میرا نکاح باقی ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 42464

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1175-1189/N=1/1433 اگر آپ کے شوہر کو تین یا اس سے زیادہ بار طلاق دینے کا اقرار ہے یا آپ کے پاس اس پر شرعی شہادت موجود ہے تو بلاشبہ آپ پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں، آپ اپنے شوہر پر حرام ہوگئیں اور اب حلالہ شرعی سے پہلے آپ ان کے حق میں ہرگز حلال نہیں ہوسکتیں، اور اگر آپ کے شوہر طلاق کا انکار کرتے ہیں اور آپ کے پاس طلاق پر شرعی شہادت بھی نہیں ہے لیکن آپنے اپنے کانوں سے شوہر سے تین یا اس سے زیادہ بار طلاق کے الفاظ سنے ہیں تو اس صورت میں طلاق طلاق کا حکم تو نہیں لگایا جاسکتا لیکن آپ کا ان کے ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا اور اپنے اوپر انھیں قابو دینا شرعاً ہرگز جائز ودرست نہ ہوگا لما تقرر عند الفقہاء من أن المرأة کالقاضي إذا علمت إلخ․


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند