• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 40538

    عنوان: طلاق کا مطالبہ کرنا اچھی بات نہیں

    سوال: میرا نام رابعہ نسیم ہے ، میں جمو وکشمیر کی رہنے والی ہوں، میری شادی 1993/ میں میرے والدین کی مرضی سے ہوئی تھی اس شادی سے میری ایک بیٹی ہے جو سولہ سال کی ہے، میں اس شادی سے کبھی خوش نہیں تھی، کیوں چودہ سال کی عمر کے فرق کی وجہ سے میرے شوہر ہمیشہ دباتے رہے اور میں برداشت کرتی رہی۔ 1996/ میں میرے سسرال والوں کو اس بات کا علم ہوگیاکہ میرے بھائی نے میرے شوہر کے بڑے بھائی کی بیٹی سے نکاح کرلیا ہے ، اس قت سے انہوں مجھ پر ہر ظلم ڈھایا، لیکن میں اپنی بیٹی کے مستقبل کے لیے سہتی رہی ، میں نے طلاق بھی مانگی ، لیکن اس نے کہا کہ میں طلاق کبھی نہیں دوں گا۔ اب تین سال سے میں اس سے الگ ہوں اور اپنے والد کے گھر پر ہوں ، میرے والد بھی فوت ہوگئے ہیں، میری بیٹی ہوسٹل میں پڑھتی ہے۔ اب میں اس سے طلاق چاہتی ہوں کیوں کہ وہ مجھے بدنام کرچکے ہیں، میری مدد کیجئے ۔ میں ان حالات میں کیا کروں؟بہت مہربانی ہوگی، عمر 36/ سال ہے۔

    جواب نمبر: 40538

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1337-274/D=9/1433 طلاق کا مطالبہ کرنا اچھی بات نہیں، حدیث میں ایسی عورتوں کو منافق کہا گیا ہے جو بلاکسی شرعی عذر کے طلاق کا مطالبہ کرتی ہیں، یا ان کو یہ وعید سنائی گئی ہے کہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھیں گی، لہٰذا آپ صبر وتحمل کے ساتھ شوہر کے حقوق ادا کرتے ہوئے ازدواجی زندگی گذاریں اور میل محبت سے شوہر کو اپنا گرودیہ بنائیں، ان شاء اللہ صبر وتحمل پر ثواب ملے گا اور اللہ تعالی موافقت اور محبت کی صورتیں پیدا فرمادیں گے۔ لیکن اگر شوہر ہی کی طرف سے ظلم وزیادتی ہورہی ہو آپ کا قصور نہ ہو اور بظاہر موافقت کے ساتھ زندگی گذارنا سخت دشوار ہو، اس صورت میں جب تک شوہر طلاق نہیں دیتے یا خلع نہیں کرتے آپ ان کے نکاح سے آزاد نہ ہوں گی البتہ تعنت یعنی شوہر کی جانب سے حد سے زیادہ ظلم اور حقوق واجبہ کی دائیگی میں سرکشی پائی جانے کی وجہ سے آپ اپنا معاملہ مقامی شرعی پنچایت میں پیش کرسکتی ہیں، اراکین شرعی پنچایت دونوں فریق کے بیانات اور شہادتیں سن کر تعنت ثابت ہوجانے کی صورت میں الحیلة الناجزہ کے ضابطہ کے مطابق فسخ نکاح کرنا مناسب سمجھیں گے تو فسخ کردیں گے، بعد فسخ نکاح عدت پوری کرکے آپ آزاد ہوجائیں گی۔ حاصل یہ کہ یا تو شوہر کی طرف سے طلاق یا خلع کا پایا جانا ضروری ہے یا شرعی پنچایت کی جانب سے فسخ نکاح کا ہونا ضروری ہے، بغیر اس کے آپ شوہر کے نکاح سے آزاد نہیں ہوسکتیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند