• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 39865

    عنوان: طلاق ثلاثہ

    سوال: میں نے صحیح مسلم میں یہ پڑھا ہے کہ حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورے خلافت میں اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پہلے ۳ سالوں میں ۳ طلاق کو ایک تصور کیا جاتا تھا۔

    جواب نمبر: 39865

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 575-640/N=9/1433 آپ نے صحیح مسلم شریف کی جس روایت کا حوالہ دیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: ”عن ابن عباس قال: کان الطلاق علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وأبي بکر وسنتین من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة․ فقال عمر بن الخطاب: إن الناس قد استعجلوا في امر کانت لہم فیہ أناة فلو أمضیناہ علیہم فأمضاہ علیہم“ وفي روایة: وثلاثا من إمارة عمر (کتاب الطلاق باب طلاق الثلاث: ۱/۴۷۷، ۴۷۸) یعنی: یہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا مقولہ ہے، لیکن اس مقولہ کو ا ئمہ اربعہ اور ان کے شاگرد اور جمہور محدثین، فقہاء اور علمائے امت نے مختلف روایتی اور درایتی علل ووجوہات اور دیگر صحیح اور صریح دلائل کی بنا پر تین طلاقوں کو ایک سمجھنے کے معنی میں ہرگز قبول نہیں کیا، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: فتح الباری (۹/۴۵۰، ۴۵۲، ط: دارالسلام الریاض)، الاستذکار (۱۷/۱۱-۱۹، ط: دار قتیبة للنشر والطباعة دمشق، بیروت)، عمدة القاری : (۲۰/۳۳۱، ۳۳۲، دار الکتب العلمیة، بیروت لبنان)، بذل المجہود (۱۰/۲۶۴-۲۶۶، ط: دارالکتب العلمی، بیروت لبنانا)، اوجز المسالک (۱۱/ ۱۲-۱۹، ط: دارالقلم دمشق)، شرح النووی (مع الصحیح لمسلم: ۱/۴۷۸) اور تکملہ فتح الملہم (۱/۱۶۴، ط: دار إحیاء التراث العربی، بیروت لبنان) وغیرہ نیز ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگردوں میں طاوٴس کے علاوہ باقی سارے شاگرد اس کے خلاف نقل کرتے ہیں کذا فی الاستذکار (۱۷/۱۱) اور بلکہ خود طاوٴس سے کتاب ادب القضاء للکرابیسی میں مروی ہے: أخبرنا علي بن عبد اللہ -وہو ابن المدیني- عن عبد الرزاق، عن معمر، عن ابن طاوٴس، عن طاوٴس أنہ قال: من حدثک عن طاوٴس أنہ کان یروي طلاق الثلاث واحدة کذِّبہ کذا في تکملة فتح المہلم (۱/۱۶۴، عن الکوثري في رسالتہ الإشفاق علی أحکام الطلاق، ص:۳۳، مطبعة مجلة الإسلام بمصر) اس میں طاوٴس نے تین طلاق کو ایک قرار دیے جانے کی روایت کے اپنی طرف انتساب کی تردید کی ہے۔ اور اگر محققین علماء کی درج بالا تفصیل رد وقدح کے باوجود اس مقولہ کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو اس کا بہت ہی ظاہر اور بے غبار مطلب یہ ے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو تین سالوں تک لوگوں میں سلامت صدر اور غلبہ صدق کی بنا پر یہ تھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو الگ الگ لفظوں میں تین طلاق دیتا اور یہ کہتا کہ میں نے پہلا لفظ طلاق کے لیے کہا اور دوسرا اور تیسرا محض تاکید کے لیے تو اس کے قول کو قبول کرلیا جاتا اور اسے حق رجعت دیدیا جاتا، لیکن جب طلاق کے واقعات بکثرت پیش آنے لگے نیز صدق وراست بازی میں بھی کمی آگئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ اعلان فرمادیا کہ آئندہ کوئی اس طلاق دے گا تو وہ تین ہی شمار ہوں گی، قضاء نیت تاکید کا اعتبار نہ ہوگا۔ کذا فی المنہاج شرح الصحیح لمسلم: ۱/۴۷۸)و بذل المجہود: ۲۶۵۱۰) وتکملة فتح الملہم (۱/۱۶۲، ۱۶۳) وغیرہا ۔ الحاصل حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس مقولہ کی بنا پر تین طلاق کو ایک سمجھنا ہرگز درست نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند