• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 39362

    عنوان: لاپتا شوہر

    سوال: اگر کسی بیوی کا شوہر لاپتا ہو جائے اور کسی وجہ سے واپس نہیں آتا ہے، لگ بھگ تین چار مہینے تک تب بیوی کا طلاق کراکر نکاح جائز ہوگا یا پھر ڈائریکٹ نکاح کرا سکتے ہیں اگر طلاق واجب ہے تو کس شکل میں طلاق ہوگی ؟ یا بغیر کسی طلاق کے نکاح جائز ہے؟ اس شکل میں کیا کرنا ہوگا، تفصیل سے جواب دیجئے گا۔ شکریہ

    جواب نمبر: 39362

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 895-597/L=7/1433 اگر شوہر اس طور پر لاپتہ ہوجائے کہ اس کی موت وحیات کا علم نہ ہوسکے تو ایسی صورت میں بیوی کو چاہیے کہ اپنا مسئلہ مقامی شرعی پنچایت یا دارالقضا میں لے جائے وہ حضرات اگر شرعی طریقے پر الحیلة الناجزة کے مطابق (لاپتہ شخص) کے مردہ ہوجانے کا حکم کردیں تو عورت عدت وفات گذارکر دوسری جگہ نکاح کرنے کی مجاز ہوجائے گی، اس سے پہلے اس کا دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہ ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند