• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 39198

    عنوان: تین طلاقوں كے بعد كسی طرح كا تعلق باقی نہیں رہتا

    سوال: ارشاد نے اپنی بیوی تبسم کو تین طلاق دیدی ہے، اس کے بعد وہ لڑکی اسی گھر میں عدت گذارری ہے جس میں شوہر رہتاہے، تبسم عدت گذارنے کے بعد بھی ارشاد کے گھر رہ رہی ہے ، نہ اس لڑکی کے گھروالے اسے آکر لے جاتے ہیں اور نہ ہی ارشاد یا اس کے گھر والے اسے پہنچاتے ہیں، تبسم کے گھر والے اس سے بیزار ہیں۔ تبسم کہتی ہے کہ اگر کوئی بھی مجھے اس گھر سے نکالے تو میں زہر کھالوں گی، نیز تبسم جس طرح طلاق سے پہلے اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی اسی طرح طلاق کے بعد بھی رہ رہی ہے۔ آں جناب سے التجاہے کہ تشفی بخش جواب سے نوازیں۔

    جواب نمبر: 39198

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1240-478/L=8/1433 صورت مسئولہ میں اگر واقعی ارشاد نے اپنی بیوی تبسم کو تین طلاق دیدی ہے تو ان دونوں کا باہم زوجیت کا رشتہ بالکلیہ ختم ہوگیا، اب بغیر حلالہ شرعی کے ان دونوں کے باہم نکاح ہونے اور ساتھ رہنے کی کوئی صورت نہیں ہے، تین طلاق کے باوجود تبسم کا ارشاد کے ساتھ حسب سابق رہنا قطعا ناجائز وحرام ہے، اگر دونوں میں صحبت ہوتی ہے تو صحبت زنا شمار ہوگی، ارشاد اور تبسم پر اب فرض ہے کہ اللہ کے حدود پر قائم رہیں اور فوراً علاحدگی اختیار کرلیں اگر یہ دونوں علاحدگی اختیار نہیں کرتے تو اہل محلہ کی یہ ذمہ داری ے کہ وہ کسی بھی طرح دونوں میں علاحدگی کرادیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند