• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 37384

    عنوان: کیا عدالت کے ذریعہ میرا خلع جائز ہے؟

    سوال: میری شادی کو آٹھ سال ہوگئے ہیں اور میری تین بیٹاں ہیں، میرے شوہر بہت مار پیٹ کرتے ہیں اور جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ میں خلع لینا چاہتی ہوں، کیا عدالت کے ذریعہ میرا خلع جائز ہے؟میں اپنی بچیاں بھی اس کو دینا نہیں چاہتی ۔ اگر میں اس سے کچھ نہ لوں تو بچیاں مجھے مل سکتی ہیں ہمیشہ کے لیے ؟

    جواب نمبر: 37384

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 518=518-3/1433

    آپ کے شوہر مارپیٹ میں اگر شرعی حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو اس کا گناہ ووبال ان پر ہوگا اور آپ شوہر کی زیادتیوں پر صبر کرتی ہیں، اس کا اجر وثواب آپ کو ملتا ہے، اس لیے جہاں تک ہوسکے برداشت کرکے شوہر کے ساتھ معاشرت قائم رکھنے کی کوشش کریں، ہاں اگر اللہ کی قائم کردہ حدود کو برقرار رکھنا دشوار ہو اور حقوق کی پامالی کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں شوہر سے خلع کا مطالبہ کرسکتی ہیں، اگر شوہر خلع کی پیشکش کو منظور کرتے ہوئے خلع کرلیتا ہے تو خلع درست ہوجائے گا ورنہ نہیں، خلع میں زوجین کی رضامندی شرط ہوتی ہے، عدالت کے ذریعہ خلع کی کیا صورت ہوگی؟ اس کی وضاحت سوال میں نہیں ہے، اگر طلاق یا خلع وغیرہ کے ذریعہ علاحدگی ہوجائے تو بچیوں کی عمر نوسال ہونے تک ان کی پرورش اور کفالت کا حق آپ (ماں) کو ہے اور نفقہ باپ کے ذمہ ہے، ۹/ سال بعد باپ بچیوں کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے لیکن اگر باپ کے اخلاق وحالات قابل اطمینان نہ ہوں تو ان کا حق ساقط بھی ہوسکتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند