• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 32386

    عنوان: آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کیا میں اپنے والد کا نافرمان ہو رہا ہوں اگر یہی صورتحال رہی تو کیا میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کوئی صورت ہو سکتی ہے

    سوال: میں فتویٰ نمبر ۳۰۶۳۹ کا حوالہ دے کر پوچھنا چاہتا ہوں کے میں نے اپنی بیوی کو دو مہینے پہلے واپس بلوا لیا ہے لکن جس دن سے میری بیوی واپس آی ہے مرے والد نے مجھ سے بات نہیں کی جس کے وجہ سے میں بوہت پریشان ہوں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کیا میں اپنے والد کا نافرمان ہو رہا ہوں اگر یہی صورتحال رہی تو کیا میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کوئی صورت ہو سکتی ہے آپ سے گزارش ہے کے میرے رہنمائی فرمائیں کی میں کیا کروں آپ کا شکرگزار رھوں گا . جزاکاللہ

    جواب نمبر: 32386

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 1219=762-7/1432 آپ والد صاحب کی خدمت میں جاتے رہیں، سلام کیا کریں، خیر خیریت معلوم کرتے رہیں، جانی مالی خدمت انجام دیتے رہیں اور ان کے حق میں دعاء کا خصوصی اہتمام کرتے رہیں، ایسا کرتے رہیں گے تو ان شاء اللہ نافرمان شمار نہ ہوں گے، بیوی کو طلاق دینے کی ضرورت نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند