• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 31243

    عنوان: نے اپنی پہلی بیوی کے علم میں لائے بغیر دوسری لڑکی سے شادی کرنا

    سوال: میں ایک دوست کی طرف سے سوال کرنا چاہتاہوں۔ اس کی شادی ہوگئی تھی، دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، لیکن اس نے اپنی پہلی بیوی کے علم میں لائے بغیر دوسری لڑکی سے شادی کرلی ہے۔ جب یہ بات پہلی بیوی کو معلوم ہوئی تو وہ اپنے شوہر سے جھگڑ نے لگی اور دباؤ ڈالنے لگی کہ تم اس کو طلاق دیدو، لیکن وہ اس سے بچ رہا ہے اور طلاق دینے پر تیار نہیں ہے۔ ایک دن اس کی پہلی بیوی اور اس کی ساس دونوں گئیں اور اس کی دوسری بیوی کو بھی بلا لائیں، چونکہ اس کا گھر بھی سامنے ہی ہے، پہلی بیوی رونے دھونے لگی اور اپنے شوہر سے کہنے لگی کہ اگر تم طلاق نہیں دے رہے ہو تو میں خودکشی کرلوں گی، شوہر نے اس کو خاموش کرنے کی کوشش کی ، لیکن وہ کسی صورت میں ماننے کے لئے تیار نہیں تھی، آخر کار صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے اس نے تین طلاق دیدی ۔ مگر خدا گواہ ہے کہ وہ دل سے طلاق دینے کے لیے تیار نہیں تھا، صرف دباؤ کی وجہ سے اس نے ایسا کہا تھا ۔ براہ کرم، بتائیں کیا دباؤ میں طلاق دینے سے طلاق ہوجاتی ہے؟اور نکاح ختم ہوجاتاہے؟

    جواب نمبر: 31243

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 507=456-4/1432 صورتِ مذکورہ میں جب زبان سے دوسری بیوی کو طلاق دیدی تو خواہ دباوٴ کی وجہ سے طلاق دی ہو جب بھی دوسری بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں اور دوسری بیوی کا رشتہٴ نکاح ختم ہوگیا۔ صریح الفاظ میں نیت کے بغیر بھی طلاق ہوجاتی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند