• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 30711

    عنوان: میری بھابھی پر بھوت کا اثر ہے، ان کا ذہنی توازن بھی ٹھیک نہیں ہے۔ رات کواکثر چیختی چلاتی ہیں اور ادھر ادھر ٹھوکر مارتی ہیں۔ ایک رات کو ایسا ہوا کہ وہ میرے بھائی کو طلاق دینے پر اصرار کررہی تھیں۔ میرے بھائی نے یہ سوچ کر وہ خاموشی سے سوجائے گی، اس لیے انہوں نے تین طلاق دیدی اور پھر سوگئے۔ صبح جب بیدارہوائے تو معلوم ہوا کہ ان کی ساس نے پہلے ہی سے اپنی بیٹی کو عدت میں رکھی ہے اور کہہ رہی ہیں کہ تمہاری شادی ختم ہوچکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے طلاق ہوگئی ؟ میرے بھائی اپنی بیوی سے محبت کرتے ہیں اور اس کو اپنی زندگی میں واپس لانا چاہتے ہیں۔ 

    سوال: میری بھابھی پر بھوت کا اثر ہے، ان کا ذہنی توازن بھی ٹھیک نہیں ہے۔ رات کواکثر چیختی چلاتی ہیں اور ادھر ادھر ٹھوکر مارتی ہیں۔ ایک رات کو ایسا ہوا کہ وہ میرے بھائی کو طلاق دینے پر اصرار کررہی تھیں۔ میرے بھائی نے یہ سوچ کر وہ خاموشی سے سوجائے گی، اس لیے انہوں نے تین طلاق دیدی اور پھر سوگئے۔ صبح جب بیدارہوائے تو معلوم ہوا کہ ان کی ساس نے پہلے ہی سے اپنی بیٹی کو عدت میں رکھی ہے اور کہہ رہی ہیں کہ تمہاری شادی ختم ہوچکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے طلاق ہوگئی ؟ میرے بھائی اپنی بیوی سے محبت کرتے ہیں اور اس کو اپنی زندگی میں واپس لانا چاہتے ہیں۔ 

    جواب نمبر: 30711

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب):307=280-3/1432

    صورتِ مذکورہ میں آپ کے بھائی کا ذہنی توازن تو صحیح ہے، انھوں نے اپنے ہوش وحواس میں بیوی کے مطالبہ پر تین طلاقیں دی ہیں، لہٰذا تینوں طلاقیں واقع ہوکر مغلظہ ہوگئیں، خواہ بیوی کو خاموش کرنے کے لیے کہا ہو یا کسی اور مقصد سے کہا ہو، اب دونوں میں میاں بیوی کا رشتہ ختم ہوگیا، اب دوبارہ لوٹانا جائز نہیں، البتہ اگر حلالہ شرعی کرکے لوٹانا چاہیں تو لوٹاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند