• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 30429

    عنوان: کچھ گھریلو مسائل کی وجہ سے میرے بھائی اور بھابھی دونوں الگ رہ رہے ہیں۔ معاملہ عدالت تک پہنچا مگر فیصلہ بھائی کے حق میں ہوا ، وہ دونوں چودہ سالوں سے الگ رہ رہے ہیں۔ ان کے دو بچے ہیں ، میرے بھائی ان کی دیکھ ریکھ کررہ رہے ہیں۔ ہم لوگ ان دونوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ کچھ مشورہ دیں ۔ 

    سوال: کچھ گھریلو مسائل کی وجہ سے میرے بھائی اور بھابھی دونوں الگ رہ رہے ہیں۔ معاملہ عدالت تک پہنچا مگر فیصلہ بھائی کے حق میں ہوا ، وہ دونوں چودہ سالوں سے الگ رہ رہے ہیں۔ ان کے دو بچے ہیں ، میرے بھائی ان کی دیکھ ریکھ کررہ رہے ہیں۔ ہم لوگ ان دونوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ کچھ مشورہ دیں ۔ 

    جواب نمبر: 30429

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب):238=223-3/1432

    اگر طلاق کی نوبت نہیں آتی ہے تو دونوں کو سمجھاکر دونوں میں ملاپ کرانے کی ضرور کوشش کریں اور دونوں کو سمجھائیں کہ مصالحت کے لیے اپنی ناک تھوڑی نیچی کرنی پڑے گی، اور ضد کو یا بدگمانی کو اپنے سینہ سے نکالنا ہوگا۔ اگر کسی کی بدگمانی دور کرنے کے لیے جھوٹ بولنے سے کام چل سکتا ہے تو ایسے موقعہ پر جھوٹ بولنے کی بھی اجازت ہے، اگر دونوں ایک دوسرے سے بغض رکھتے رہے تو کسی کی عبادت، دعاء، تلاوت وغیرہ قبول نہ ہوگی، اور معافی تلافی کیے بغیر مرگئے تو ان کا ٹھکانا جہنم حدیث پاک میں بتایا گیا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند