• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 28383

    عنوان: میں موباء ل فون انٹرنیٹ استمال کرتاھوں.کچھ حرف صحی نھیں ھیں .میرا نکاح ھوکر تینوا مھینہ چلرھاھے ۔ سوال نمبر ایک:- نکاح کن باتوں سے ٹوٹتا ھے:----.لفظ طلاق کے سوا اور طلاق کی نیت کے بغیر کن باتوں سے یا عمل سےّ نکاح ٹوٹجاتا ھے؟ :میرا مسلہ یہ ھے کہ:میں نے ایک مرتبا میری بیوی کو یوں کھہ دیا..۔ اللہ نے مجے میری ماں جیسی بیوی دیا ھے۔ ۔ یہ اسلیے کھدیا کہ میری بیوی کی عادت میری ماں کی عادت سے ملتی جلتی ھے.اور میں ھمیشہ اللہ سے صرف دین کی ھدایت اور نیک بیوی مانگتہ تھا .تا کہ دین کے کام کرنے میں مجھے مدد ملے .اللہ نے ایسی ھی بیوی دیا تو اسکی محبت میں ، میں نے .۔ آگے میری امما ۔ یعنی ماں..۔ یعنی والدہ .۔ کر کے کھدیا تھا ۔ یہ ٹیک سے یاد نھیں ھے کے محبت کی وجہ سے کھا تھا ۔ یا میں نے ایک بار کسی عام آدمی سے سنا تھا کہ : بیوی ماں کے بعد ماں جیسی ھوتی ھے۔ کیوں کہ جس طرح ماں بیٹے کی دیکھ بھال کرتی ھے اسی طرح بیوی بھی کرتی ھے.شاید یہ بات دماغ میں آی ھوگی اس کی وجہ سے میں نے آگے میری امما ۔ یعنی ماں یعنی والدہ ۔ بول کر پکار دیا ھوگا.تو کیا ان الفاظ کا زبان سے نکل نے کی وجہ سے نکاح ٹوٹجاتا ھے یا نھیں؟ یا یہ ظھار کے حکم میں آتا ھے یا نھیں؟اگر ظھار کے حکم میں آتا ھے تو کیا 60 فقیروں کو دو وقت کا کھلانا لازمی ھے.اللہ کے واستے کفارا ادا کرنے کا کوی دوسرا راستہ بتایے کیوں کے 60فقیروں کو دھونڈ کر کھلانا بھت مشکل ھے مجھے ۔ اور اسکی رقم بھی آپ ھی بتایے۔ سوال نمبر دو :- اگر کفارا ادا نہ کیا تو؟ اس کے بارے میں کیا وعید ھے؟ سوال نمبر تین :- کیا کفارا ادا کرنے سے پھلے مرد بیوی سے جماع کر ساکتا ھے؟ سوال نمبر چار :- میں مھر ادا کرنا چاھتا ھوں مگر بوڈھے لوگ کگتے ھیں کہ اور کچھ سال جانے دو.کیوں کہ انکا پرانا عقیدہ ھے کہ مھر جلدی ادا کرنے سے شوھر جلدی انتقال ھوجاتا ھے.اسکے بارے میں کیا اصول ھے.اور کوی ایسی بات کھو کہ مجھے مھر ادا کرنے میں دل نہ گھبراے.سوال نمبر پانچ :-ایک بار دعا پڈنا کافی ھے یا ایک رات میں کیتنے بار جماع کیا جاے اتنے بار بھی دعا پڈنا ضروری ھے.جبکہ دوسری بار جنوبی حالت رحتی ھے.سوال نمبر چھ:-رات کی تنھای میں بیوی کو مقتدی بناکر شوھر امام بنکر صلاتل حاجات کی نفل نماز پڈسکتا ھے۔ یاد رھے کہ میں داڈی منڈھا ھوں۔ اور امامت کا طریقہ بھی بتایے.اور عورت مقتدی اقامت بولنا ھے؟جیسے مرد مسجد میں بولتے ھیں۔ سوال نمبر سات:-میری بیوی کم عمر کی ھے 15یا 16سال کی ھوگی.اس کو مد نظر رکھ کر کیا میں کچھ سال کے لیے اولاد ھونے سے روک سکتا ھوں؟ اگر آپ کے ذھن میں بزرگوں کی تجربہ کی کوی ترکیب ھے اولاد روکنے کی تو بتایے۔ اگر ایسا پوچھنا غلط ھے تو معاف کیجیے.آخری سوال.کیا کوی اجنبی کمپنی گفٹ یعنی تحفہ دے تو لیے سکتے ھیں؟ جبکہ وہ حلال یا حرام کماتا ھے اسکا ھمیں علم نھیں.کیوں کہ میرے۔ ی۔ میل۔ آی۔ ڈی۔ پر لکی ڈرا میں گفٹ یعنی تحفہ ملا ھے۔ دعا کی درخاست کے اللہ مجھے ایسا کام دے جو دین کا کام کرنے اور سنت و شریعت پر عمل کرنے میں آڈ نہ آے.اللہ آپکے زندگی میں اور علم میں برکت دے۔ آمین!

    سوال: میں موباء ل فون انٹرنیٹ استمال کرتاھوں.کچھ حرف صحی نھیں ھیں .میرا نکاح ھوکر تینوا مھینہ چلرھاھے ۔ سوال نمبر ایک:- نکاح کن باتوں سے ٹوٹتا ھے:----.لفظ طلاق کے سوا اور طلاق کی نیت کے بغیر کن باتوں سے یا عمل سےّ نکاح ٹوٹجاتا ھے؟ :میرا مسلہ یہ ھے کہ:میں نے ایک مرتبا میری بیوی کو یوں کھہ دیا..۔ اللہ نے مجے میری ماں جیسی بیوی دیا ھے۔ ۔ یہ اسلیے کھدیا کہ میری بیوی کی عادت میری ماں کی عادت سے ملتی جلتی ھے.اور میں ھمیشہ اللہ سے صرف دین کی ھدایت اور نیک بیوی مانگتہ تھا .تا کہ دین کے کام کرنے میں مجھے مدد ملے .اللہ نے ایسی ھی بیوی دیا تو اسکی محبت میں ، میں نے .۔ آگے میری امما ۔ یعنی ماں..۔ یعنی والدہ .۔ کر کے کھدیا تھا ۔ یہ ٹیک سے یاد نھیں ھے کے محبت کی وجہ سے کھا تھا ۔ یا میں نے ایک بار کسی عام آدمی سے سنا تھا کہ : بیوی ماں کے بعد ماں جیسی ھوتی ھے۔ کیوں کہ جس طرح ماں بیٹے کی دیکھ بھال کرتی ھے اسی طرح بیوی بھی کرتی ھے.شاید یہ بات دماغ میں آی ھوگی اس کی وجہ سے میں نے آگے میری امما ۔ یعنی ماں یعنی والدہ ۔ بول کر پکار دیا ھوگا.تو کیا ان الفاظ کا زبان سے نکل نے کی وجہ سے نکاح ٹوٹجاتا ھے یا نھیں؟ یا یہ ظھار کے حکم میں آتا ھے یا نھیں؟اگر ظھار کے حکم میں آتا ھے تو کیا 60 فقیروں کو دو وقت کا کھلانا لازمی ھے.اللہ کے واستے کفارا ادا کرنے کا کوی دوسرا راستہ بتایے کیوں کے 60فقیروں کو دھونڈ کر کھلانا بھت مشکل ھے مجھے ۔ اور اسکی رقم بھی آپ ھی بتایے۔ سوال نمبر دو :- اگر کفارا ادا نہ کیا تو؟ اس کے بارے میں کیا وعید ھے؟ سوال نمبر تین :- کیا کفارا ادا کرنے سے پھلے مرد بیوی سے جماع کر ساکتا ھے؟ سوال نمبر چار :- میں مھر ادا کرنا چاھتا ھوں مگر بوڈھے لوگ کگتے ھیں کہ اور کچھ سال جانے دو.کیوں کہ انکا پرانا عقیدہ ھے کہ مھر جلدی ادا کرنے سے شوھر جلدی انتقال ھوجاتا ھے.اسکے بارے میں کیا اصول ھے.اور کوی ایسی بات کھو کہ مجھے مھر ادا کرنے میں دل نہ گھبراے.سوال نمبر پانچ :-ایک بار دعا پڈنا کافی ھے یا ایک رات میں کیتنے بار جماع کیا جاے اتنے بار بھی دعا پڈنا ضروری ھے.جبکہ دوسری بار جنوبی حالت رحتی ھے.سوال نمبر چھ:-رات کی تنھای میں بیوی کو مقتدی بناکر شوھر امام بنکر صلاتل حاجات کی نفل نماز پڈسکتا ھے۔ یاد رھے کہ میں داڈی منڈھا ھوں۔ اور امامت کا طریقہ بھی بتایے.اور عورت مقتدی اقامت بولنا ھے؟جیسے مرد مسجد میں بولتے ھیں۔ سوال نمبر سات:-میری بیوی کم عمر کی ھے 15یا 16سال کی ھوگی.اس کو مد نظر رکھ کر کیا میں کچھ سال کے لیے اولاد ھونے سے روک سکتا ھوں؟ اگر آپ کے ذھن میں بزرگوں کی تجربہ کی کوی ترکیب ھے اولاد روکنے کی تو بتایے۔ اگر ایسا پوچھنا غلط ھے تو معاف کیجیے.آخری سوال.کیا کوی اجنبی کمپنی گفٹ یعنی تحفہ دے تو لیے سکتے ھیں؟ جبکہ وہ حلال یا حرام کماتا ھے اسکا ھمیں علم نھیں.کیوں کہ میرے۔ ی۔ میل۔ آی۔ ڈی۔ پر لکی ڈرا میں گفٹ یعنی تحفہ ملا ھے۔ دعا کی درخاست کے اللہ مجھے ایسا کام دے جو دین کا کام کرنے اور سنت و شریعت پر عمل کرنے میں آڈ نہ آے.اللہ آپکے زندگی میں اور علم میں برکت دے۔ آمین!

    جواب نمبر: 28383

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 80=16-1/1432

    (۱) صورت مسئولہ میں ”میری ماں جیسی بیوی دیا ہے“ کہنے سے نکاح نہیں ٹوٹا نہ ہی ظہار ہوا۔ طلاق کے الفاظ کے علاوہ کن الفاظ سے کس طرح نکاح ٹوٹتا ہے۔ اس کی تفصیل بہشتی زیور حصہ چہارم میں لکھی ہے، اچھی طرح پڑھ لیں۔ اور آئندہ بیوی کے لیے ایسا جملہ بولنے سے احتراز کریں، جس میں ماں کے ساتھ تشبیہ دینا ہو، کبھی بے احتیاطی سے نقصان دہ مطلب بھی نکل سکتا ہے۔
    (۲) ابھی تو کسی قسم کا کفارہ واجب نہیں ہوا۔
    (۳) ابھی تو وہ آپ کی بیوی ہے جماع کرنا جائزہے۔
    (۴) بعض لوگوں کا کہنا غلط ہے، مہر جب وسعت ہو جلد ادا کرکے سبکدوش ہوجانا بہتر ہے۔ ”مہر جلد ادا کرنے سے شوہر کا جلد انتقال ہوجاتا ہے“ یہ غلط قسم کا توہم اور فاسد عقیدہ ہے، اس سے توبہ کریں اور مہر ادا کرکے اس کے خلاف بات دل میں جمائیں۔ 
    (۵) ہرانزال کے وقت پڑھنا مستحب ہے یاد نہ رہے تو ایک رات میں پہلی بار پڑھنا ہی کافی ہوجائے گا۔
    (۶) آپ آگے کھڑے ہوں اور بیوی آپ کے پیچھے (برابر میں نہیں) تو اقتدا درست ہوگی، اقامت آپ خود ہی کہہ لیں تو بہتر ہے۔
    (۷) اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمت گھر کی رحمت وبرکت ہے، بلاضرورت اس کے روکنے کی سعی کرنا اچھا نہیں۔
    (۸) اگر اس کی آمدنی مکمل حرام نہیں ہے بلکہ مخلوط ہے تو اس سے گِفٹ لینے کی گنجائش ہے، البتہ وہ کس مقصد کے لیے دے رہا ہے، اسے بھی دیکھ سمجھ لیں۔ لکی ڈرا میں اگر جوے (قمار) کی نوعیت ہے تو اسے اپنے استعمال میں نہ لائیں، بلکہ غربا مساکین پر صدقہ کردیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند