• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 27831

    عنوان: میں نے اپنی بیوی سے ۲۱/ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو صرف ایک بار کہا کہ میں تم کو طلاق دیتا ہوں۔ اب بتائیں کہ اگر ہم دوبارہ ایک ہونا چاہیں تو ہمارے لیے شریعت کا حکم کیا ہے؟ مجھے کب تک اسے واپس لینے کا اختیار ہوگا؟ کیوں کہ اس وقت وہ واپسی سے انکار کررہی ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ میں اس کو راضی کرلوں گا۔ 

    سوال: میں نے اپنی بیوی سے ۲۱/ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو صرف ایک بار کہا کہ میں تم کو طلاق دیتا ہوں۔ اب بتائیں کہ اگر ہم دوبارہ ایک ہونا چاہیں تو ہمارے لیے شریعت کا حکم کیا ہے؟ مجھے کب تک اسے واپس لینے کا اختیار ہوگا؟ کیوں کہ اس وقت وہ واپسی سے انکار کررہی ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ میں اس کو راضی کرلوں گا۔ 

    جواب نمبر: 27831

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 1858=1336-1/1432

    اگر آپ نے صرف ایک طلاق رجعی اپنی بیوی کو دی ہے، تو تاوقت عدت آپ اپنی بیوی سے رجعت کرسکتے ہیں، رجعت کی صورت یہ ہوگی کہ آپ دوگواہوں کی موجودگی میں یہ کہہ دیں کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کرلی ہے، یا پہلے کی طرح آپ دونوں (میاں بیوی) رہنا شروع کردیں، بیوی کے انکار کے باوجود تاوقت عدت آپ اس سے رجعت کرسکتے ہیں۔ البتہ اگر آپ نے تاوقت عدت رجعت نہیں کی تو پھر آپ دونوں کا نکاح ختم ہوجائے گا اور اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو آپسی رضامندی سے نکاح جدید کرنا ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند