• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 27224

    عنوان: اگر کوئی شخص دولوگوں کی موجودگی میں اور اپنی بیوی کی عدم موجودگی میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرے کہ؛ ” میں (نام لے کر) اپنی منکوحہ (نام لے کر)کو بہ قائم ہوش وحواس ،باہمی رضامندی سے طلاق دیتاہوں، طلاق دیتاہوں ، طلاق دیتاہو“۔ اور یہ الفاظ ان دونوں میں سے ایک شخص کاغذ پر لکھے اور پھر طلاق دینے والا شخص اس کاغذ پر اپنا دستخط کردے جب کہ اس کے دل میں نیت صرف ایک طلاق کی ہو،تو کیا مذکورہ بالا صورت میں ایک طلاق واقع ہوئی ہے یا تین ؟ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ 

    سوال: اگر کوئی شخص دولوگوں کی موجودگی میں اور اپنی بیوی کی عدم موجودگی میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرے کہ؛ ” میں (نام لے کر) اپنی منکوحہ (نام لے کر)کو بہ قائم ہوش وحواس ،باہمی رضامندی سے طلاق دیتاہوں، طلاق دیتاہوں ، طلاق دیتاہو“۔ اور یہ الفاظ ان دونوں میں سے ایک شخص کاغذ پر لکھے اور پھر طلاق دینے والا شخص اس کاغذ پر اپنا دستخط کردے جب کہ اس کے دل میں نیت صرف ایک طلاق کی ہو،تو کیا مذکورہ بالا صورت میں ایک طلاق واقع ہوئی ہے یا تین ؟ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ 

    جواب نمبر: 27224

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 1630=1630-11/1431

    صورت مسئولہ میں اس کی بیوی پر قضاءً تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں۔ لو کرر لفظ الطلاق وقع الکل إلخ (درمختار)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند