• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 22985

    عنوان: میری بیوی نے اپنی بہن کی شکایت اس کے شوہر سے کی تو وہ ناراض ہوا، یہ سن کر میں نے اپنی بیوی سے غصہ سے کہا کہ اپنی عادت سدھا رلے، نہیں تو میں تجھے طلاق دیتا ہوں، اس وقت وہ ساتھ مہینے کے حمل سے تھی، اور ہم دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ براہ کرم، بتائیں کہ کیا اس سے طلاق ہوگئی؟

    سوال: میری بیوی نے اپنی بہن کی شکایت اس کے شوہر سے کی تو وہ ناراض ہوا، یہ سن کر میں نے اپنی بیوی سے غصہ سے کہا کہ اپنی عادت سدھا رلے، نہیں تو میں تجھے طلاق دیتا ہوں، اس وقت وہ ساتھ مہینے کے حمل سے تھی، اور ہم دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ براہ کرم، بتائیں کہ کیا اس سے طلاق ہوگئی؟

    جواب نمبر: 22985

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 1681=1238-9/1431

    ”․․․نہیں تو میں تجھے طلاق دیتا ہوں“ ظاہر یہی ہے کہ یہ تعلیق نہیں بلکہ ایک طلاق دینا اُسی وقت مقصود تھا، ایسی صورت میں ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی، شوہر طلاق دیدے اورکوئی گواہ نہ ہو طلاق تب بھی واقع ہوجاتی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند