• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 20395

    عنوان:

    طلاق کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔ قرآن کریم ہے کہ طلاق دوبار ہے۔ اس کے پیش نظر براہ کرم، بتائیں۔(۱) حیض کے بعد(پاکی کی حالت میں ہمبستری نہیں کی ) دو بالغ مرد کے سامنے ایک شخص نے اپنی بیوی کو ماہ جنوری میں ایک طلاق دی، اس کے بعد شوہر بیوی کے ساتھ رہاایک مہینہ کے تک، اس دوران اس نے بیوی کے ساتھ ہمبستری نہیں کی ۔۔۔؟؟؟

    سوال:

    طلاق کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔ قرآن کریم ہے کہ طلاق دوبار ہے۔ اس کے پیش نظر براہ کرم، بتائیں۔(۱) حیض کے بعد(پاکی کی حالت میں ہمبستری نہیں کی ) دو بالغ مرد کے سامنے ایک شخص نے اپنی بیوی کو ماہ جنوری میں ایک طلاق دی، اس کے بعد شوہر بیوی کے ساتھ رہاایک مہینہ کے تک، اس دوران اس نے بیوی کے ساتھ ہمبستری نہیں کی ۔ پھر ماہ فروری میں اس نے حیض کے بعد دوسری طلاق دی اور ہمبستری سے اجتناب کیا۔ مارچ کے مہینے میں مدت حیض گذرنے کے بعد اس نے طلاق نہیں دی بلکہ بیوی سے اپنے میکے سے جانے کے لیے کہا۔ اب اس حال میں سوال ایک سے زیادہ ہے۔ (۱) طلاق ہوگئی ؟ یہ تو سمجھ نہیں آرہاہے۔(۲) لیکن کس قسم کی طلاق ہوئی؟ (۳) دوبارہ نکاح کی صورت ہے کہ نہیں؟ (یہ خیال رہے کہ اس نے تیسری طلاق نہیں دی) ۵) اگر دوبارہ نکاح کی صورت ہے تو چار مہینے اور دس دن کے بعد ؟ یا عدت کے بعد؟یا عدت کی ضرورت نہیں؟

    (۲) ایک شخص نے ماہ جنوری میں پاکی کی حالت میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دی دو بالغ کے سامنے۔ پھر شوہر بیوی کے ساتھ رہا نیز ہمبستری بھی کی۔کیااس نکا نکاح باقی ہے؟ یا طلاق ہوگئی؟ ایسی حالت میں اگر طلاق ہوگئی تو کیا نکاح کی صورت باقی ہے عدت کے بعد یا عدت کی ضرورت نہیں؟ یا نارمل کی طرح دو نوں میاں بیو ی کی طرح رہ سکتے ہیں؟ یا نکاح پھر بھی کرنا پڑے گا؟

    (۳) ایک شخص نے ماہ جنوری میں پاکی حالت میں (ہمبستری نہیں کی) اپنی بیوی کو طلاق دی دوبالغ کے سامنے ۔شوہر کے ساتھ بیوی کے ساتھ رہنے لگا۔ طلاق کے ایک ماہ گذرنے کے بعد اس نے اپنی بیوی سے صحبت نہیں کی۔ پھر ماہ فروری میں پاکی کی حالت میں اس نے ایک اور طلاق دی، لیکن اس نے بیوی کے ساتھ صحبت کی ۔یہ خیال رہے کہ اس نے تیسری طلاق نہیں دی ۔ اسی حالت میں اگر طلاق ہوگئی تو کیا نکاح کی صورت باقی ہے عدت کے بعد یا عدت کی ضرورت نہیں؟ یا نارمل انداز سے وہ میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 20395

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 472=155tl-4/1431

     

    (۱) اگر اس شخص نے دو طہروں میں دو طلاق دی ہے تو اس کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوگئی۔ مابقیہ سوالوں کے جوابات سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس نے دوسری طلاق کے بعد اپنی بیوی سے رجعت کرلی تھی یا نہیں۔

    (۲) اگر اس شخص نے ایک طلاق کے بعد اپنی بیوی سے رجعت کرلی تھی تو ان دونوں کا نکاح باقی ہے۔ دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں۔

    (۳) اگر اس شخص نے دوسری طلاق کے بعد صحبت کرلی تھی تو رجعت ہوگئی اور وہ دونوں بغیر نکاح کے میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں، البتہ اگر اس کے بعد شوہر ایک بھی طلاق دیدے گا تو پھر شوہر کے ہاتھ سے رجعت کا حق نکل جائے گا او روہ بغیر حلالہ شرعی اس سے دوبارہ نکاح نہیں کرسکتا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند