• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 179784

    عنوان:

    طلاق بائن کی عدت كى دوران نکاح

    سوال:

    ایک صاحب کا یہ سوال ہے ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دن و مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک عورت کی طلاق ہو گئی تو اس عورت نے اپنے عدت کے درمیان دوسری نکاح کرلی اس کے بعد کسی مفتی صاحب کے پاس مسئلہ معلوم کیا تو مفتی صاحب نے ان کو علیحدہ کردیا اور بتایا کہ تم ۵۱دن پوری ہونے کے بعد دوبارہ نکاح وغیرہ پڑھوا لینا اب مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ عدت کے درمیان نکاح معتبر ھو گا یا نہیں اور ۵۱دن کی جو عدت پہلے مفتی صاحب نے بتایا وہ کہاں تک صحیح ہے نیز ان کوئی حد شریعت کی طرف سے لگائے جائیں گے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 179784

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:12-5T/sd=2/1442

     عدت مکمل ہونے سے پہلے دوسری جگہ نکاح کرنا صحیح نہیں ہوتا ،پس صورت مسئولہ میں اگر عدت کے اندر نکاح کرلیا گیا ، تو یہ نکاح فاسد ہوا، لہذا دونوں کے درمیان فورا علیحدگی لازم ہے ، عدت مکمل ہونے ( تین ماہواری مکمل ہونے ) کے بعد دونوں دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، عدت میں نکاح کرنے سے اس عدت میں اضافہ نہیں ہوتا ہے ، وہ عدت تو وقت طلاق سے تین ماہواری آنے تک ختم ہوجاتی ہے ؛ البتہ اگر دوسرا کوئی شخص نکاح کرنا چاہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ بغیر تفریق اور تفریق کے بعد دوبارہ عدت گذرے بغیر نکاح کرے اور اگر خود وہی شخص نکاح کرے کہ جس نے عدت سابق میں نکاح کیا تھا، تو اس کے لیے اس نکاح فاسد کی وجہ سے مزید کوئی عدت واجب نہیں ہوگی؛ بلکہ پہلی عدت کا مکمل کرنا ہی کافی ہوگا ۔تفصیل کے لیے دیکھیے : امداد الاحکام :۲۸۰/۳تا ۲۸۴، زکریا، دیوبند،باقی سوال میں ۵۱دن کی عدت کی بات جو لکھی گئی ہے ، وہ درست نہیں ہے ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند