• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 17798

    عنوان:

    گیارہ سال پہلے میرے دوست نے ایک عیسائی لڑکی سے شادی کی اور اس نے اس کو اسلام قبول کروایا اس کے بعد کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے وہ لوگ ایک دوسرے سے علیحدہ ہوگئے اور ایک دوسرے سے کبھی بھی رابطہ نہیں قائم کئے۔ او ر2005میں اس عورت نے ایک دوسرے مرد کے ساتھ شادی کر لیا اوراس کے اس سے دو بچے ہیں لیکن اس کے شوہر نے اس کو طلاق دے دی اور وہ اپنے دوبچوں کے ساتھ رہ رہی ہے۔ اب میرا دوست اس کو دوبارہ قبول کرنا چاہتاہے۔ تو ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا اس کے ساتھ نیا نکاح کرکے اس کو دوبارہ قبول کرنا ممکن ہے؟

    سوال:

    گیارہ سال پہلے میرے دوست نے ایک عیسائی لڑکی سے شادی کی اور اس نے اس کو اسلام قبول کروایا اس کے بعد کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے وہ لوگ ایک دوسرے سے علیحدہ ہوگئے اور ایک دوسرے سے کبھی بھی رابطہ نہیں قائم کئے۔ او ر2005میں اس عورت نے ایک دوسرے مرد کے ساتھ شادی کر لیا اوراس کے اس سے دو بچے ہیں لیکن اس کے شوہر نے اس کو طلاق دے دی اور وہ اپنے دوبچوں کے ساتھ رہ رہی ہے۔ اب میرا دوست اس کو دوبارہ قبول کرنا چاہتاہے۔ تو ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا اس کے ساتھ نیا نکاح کرکے اس کو دوبارہ قبول کرنا ممکن ہے؟

    جواب نمبر: 17798

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م):1788=1788-12/1430

     

    اگر آپ کے دوست نے طلاق یا خلع کے ذریعہ اس لڑکی سے علاحدگی اختیار کرلی تھی پھرعدت کے بعد اس نے دوسرے مرد سے شادی کی اور دوسرے شوہر نے طلاق دیدی تو اس دوسرے مرد کی عدت اگر گذرگئی ہو تو آپ کا دوست دوبارہ بتراضی طرفین شرعی طریقے پر نکاح کے ذریعہ اس کو قبول کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند