• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 17441

    عنوان:

    میں ندیم احمد ، لکھنوٴ، یوپی، انڈیا سے ہوں۔ حضرت میرا مسئلہ طلاق کے بارے میں ہے۔ میں نے کچھ دنوں پہلے ایک لڑکی سے محبت کی شادی کی تھی۔ او رمیں نے محبت کی شادی پر فتوی پہلے ہی لے لیا تھا کہ محبت کی شادی کرنا جائز ہے کہ نہیں۔ جب میں نے فتوی لے لیا تو میں نے اس سے سنت طریقہ سے نکاح کرلیا۔ میرے گھر والے تو اس نکاح سے راضی ہوگئے۔ جب لڑکی کے گھر والوں کو پتہ چلاکہ لڑکی نے اپنی مرضی سے نکاح کرلیا ہے تو لڑکی کے کچھ گھر والے لگ بھگ راضی ہوگئے تھے، پر لڑکی کے سوتیلے والد راضی نہیں ہوئے (جو خود ایک حافظ ہیں)۔ کیوں کہ میں ایک پٹھان فیملی سے ہوں اور وہ لڑکی قریشی فیملی سے ہے۔ اللہ رب العٰلمین بیشک جانتا ہے کہ میرے دل میں ذات برادری کو لے کر کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا، میں سب کو برابر مانتاہوں۔ تب وہ لوگ طلاق دلوانے پر لڑکی کو راضی کرنے لگے۔ لڑکی نہیں مان رہی تھی تو اس کے والد (جو سوتیلے ہیں) انھوں نے لڑکی کی والدہ سے کہا کہ ...

    سوال:

    میں ندیم احمد ، لکھنوٴ، یوپی، انڈیا سے ہوں۔ حضرت میرا مسئلہ طلاق کے بارے میں ہے۔ میں نے کچھ دنوں پہلے ایک لڑکی سے محبت کی شادی کی تھی۔ او رمیں نے محبت کی شادی پر فتوی پہلے ہی لے لیا تھا کہ محبت کی شادی کرنا جائز ہے کہ نہیں۔ جب میں نے فتوی لے لیا تو میں نے اس سے سنت طریقہ سے نکاح کرلیا۔ میرے گھر والے تو اس نکاح سے راضی ہوگئے۔ جب لڑکی کے گھر والوں کو پتہ چلاکہ لڑکی نے اپنی مرضی سے نکاح کرلیا ہے تو لڑکی کے کچھ گھر والے لگ بھگ راضی ہوگئے تھے، پر لڑکی کے سوتیلے والد راضی نہیں ہوئے (جو خود ایک حافظ ہیں)۔ کیوں کہ میں ایک پٹھان فیملی سے ہوں اور وہ لڑکی قریشی فیملی سے ہے۔ اللہ رب العٰلمین بیشک جانتا ہے کہ میرے دل میں ذات برادری کو لے کر کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا، میں سب کو برابر مانتاہوں۔ تب وہ لوگ طلاق دلوانے پر لڑکی کو راضی کرنے لگے۔ لڑکی نہیں مان رہی تھی تو اس کے والد (جو سوتیلے ہیں) انھوں نے لڑکی کی والدہ سے کہا کہ اگر تم وہاں شادی کرنا چاہتی ہو تو کردو، لیکن اگر تم نے ایسا کیاتو میں اس بات پر تمہیں طلاق دے دوں گا۔اس وجہ سے لڑکی کی والدہ بھی اس نکاح کے خلاف ہو گئی۔اب لڑکی کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ وہ لڑکے سے طلاق مانگے، تو وہ طلاق دے۔ میرے پوچھنے پر میں نے کہہ دیا کہ لڑکی کی مرضی کے بغیر میں طلاق نہیں دوں گا۔ تب انھوں نے لڑکی سے میرے سامنے کہا کہ تم کہہ دو کہ میں طلاق چاہتی ہوں۔ لڑکی نہیں مان رہی تھی میں نے پہلے اس سے پوچھا کہ میں طلاق دے دوں۔ تو اس نے مجھ سے کہا کہ نہیں آپ نہ دیجئے۔ پھر اس کی والدہ نے ، خالہ نے اور اس کے والد نے لڑکی پر زور دیا اور ڈرایا کہ میں تمہاری والدہ کو طلاق دے دوں گا، پھر لڑکی نے مجھ سے نہ چاہتے ہوئے بھی کہا ہاں دے دوں۔ جب یہ باتیں چل رہی تھیں تو میں نے اس کے والد سے کہا کہ اس طرح سے زبردستی نکاح نہیں ٹوٹتا ہے،کیوں کہ اس کا دل نہیں ہے،اور میرا بھی دل نہیں ہے۔ پھر میں نے اس کو غصہ میں نہ چاہتے ہوئے بھی تین بار طلاق کہہ دیا۔ اور اللہ سے نیت کی ہم دونوں سے زبردستی ہمارا نکاح توڑا جارہا ہے۔ اس رشتہ کو میرے اللہ تو محفوظ رکھنا آمین۔ کیوں کہ نیت پر سب کچھ ہوتاہے، میری نیت نہیں تھی اس کو طلاق دینے کی اور اس کی بھی نیت نہیں تھی مجھ سے طلاق لینے کی۔ اس کے والد کے مجبور کرنے پر نہ چاہتے ہوئے طلاق کی ہاں ہوئی۔ تو مجھے یہ جاننا ہے کہ میرا نکاح اس لڑکی سے ٹوٹا کہ نہیں؟ اور اس طرح سے طلاق کروانے سے جو گناہ ، لعنت اور عذاب ہو ں گے وہ بھی بتائیے ؟اوراس کا جواب جلد سے جلد دیں، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ والسلام

    جواب نمبر: 17441

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د):2126=326k-12/1430

     

    طلاق کا لفظ رشتہٴ نکاح کو ختم کرنے کے لیے صریح ہے جس کے ذریعہ طلاق واقع ہونے کے لیے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ نہ دینے کی نیت کرکے کہنے کی صورت میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، اسی طرح غصہ کی حالت میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ پس آپ کے معاملہ میں بھی طلاق واقع ہوگئی، کتنی اور کیسی واقع ہوئی، اس کی وضاحت جاننے کے لیے آپ یہ صراحت کریں کہ بعد نکاح اس لڑکی سے خلوت صحیحہ یا ہمبستری کا وقوع ہوا تھا یا نہیں؟ نیز تین طلاق دینے کے لیے جو الفاظ اور جملے آپ نے استعمال کیے انھیں صاف طور پر لکھیں۔ دوبارہ استفتاء کرتے وقت فتوی ہذا یا اس کی صحیح نقل منسلک کردیں گے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند