• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 154384

    عنوان: بغیر گواہ اور وکیل کے مشورے کے مرد اکیلا کیسے طلاق دے سکتا ہے؟جب کہ نکاح میں گواہ وغیرہ ضروری ہیں؟

    سوال: (۱) پہلا سوال طلاق دینے کے بارے میں:۔ جب کوئی مرد شراب پیتا ہو اور اپنی اہلیہ کو طرح طرح کی پریشانیاں اور گالیاں اور کھانے پینے کا بھی انتظام نہیں کرتا ہو اگر وہ اس حالت میں اپنی اہلیہ کو طلاق دے دے تو کیا اس کا طلاق دینا صحیح ہوگا؟ جب دونوں کا نکاح ہوا ایک وکیل اور دو گواہ کی موجودگی میں تو دونوں کی اجازت اور ان کی رضامندی سے نکاح ہوا، اب وہ مرد کیسے اکیلا ہی اتنا ظلم کرنے کے بعد کیسے بغیر گواہ اور وکیل کے اور بغیر مشورہ کے کیسے طلاق دے سکتا ہے؟ جب کہ ساری خطا اس مرد کی ہے اور عورت کی کوئی خطا نہیں ہے پھر اس کے ساتھ میں اتنا ظلم کیوں؟ (۲) دوسرا سوال عدت کے بارے میں معلومات کرنا چاہتے ہیں:۔ اگر ہم سے کوئی غیر مذہب کا کوئی انسان عدت کے بارے میں سوال پوچھ لیتا ہے تو ہم اس کا تسلی بخش جواب نہیں دے پاتے جس سے ہمیں نیچا دیکھنا پڑتا ہے، اب ہمیں یہ بتائیں کہ جب دونوں کا نکاح ہوتا ہے تو دونوں کی برابر حصہ داری ہوتی ہے پھر اگر دونوں میں سے ایک انکار کردے تو نکاح نہیں ہو سکتا، ہمیں یہ بتائیں کہ شوہر کے انتقال کے بعد عورت چار مہینے دس دن اپنے شوہر کے لیے عدت میں اپنے شوہر کی مغفرت کی دعا کرتی ہے اور جس عورت کو طلاق ہوا وہ عدت میں بیٹھ کر کیا کرتی ہے؟ اسلام مذہب میں دو عورت اور ایک مرد کی برابر گواہی مانی جاتی ہے جب عورت طلاق کے بعد تین مہینے دس دن عدت میں بیٹھتی ہے تو مذہب اسلام کے مطابق مرد کو ایک مہینہ عدت میں بیٹھنا چاہئے یا نہیں بیٹھنا چاہئے؟ کیا یہ سب پریشانیاں عورت کے ہی حصہ میں ہے، مرد کھلا رہے اور کچھ بھی کرتا رہے، اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ ان سب باتوں کی آپ سے گزارش ہے کہ خلاصہ کرکے تسلی بخش جواب دیں۔ ہم سے اگر کہیں گستاخی ہو گئی ہو تو خدا کے لیے ہمیں معاف کرنا۔

    جواب نمبر: 154384

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1297-221/D=12/1438

    حدیث میں ہے الطلاق لمن اخذ بالساق طلاق کا اختیار شوہر کو ہے نیز نکاح سے پہلے لڑکے لڑکی دونوں با اختیار تھے لیکن جب ایجاب و قبول کے ذریعہ دونوں رشتہ نکاح میں بندھ گئے تو اللہ تعالی نے نکاح کی ڈور مرد کے ہاتھ میں دے دی اب اسے رکھنے ختم کرنے کا اختیار مرد کو حاصل ہوگیا قرآن پاک میں بیدہ عُقدة النکاح کے ذریعہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یہ اللہ تعالی کا قانون ہے جو شخص قانون الٰہی کو مانتاہے وہ مسلمان کہلاتا ہے یہ ہماری عقل کا بنایا ہوا نہیں ہے کہ عقل انسانی میں آنا ضروری ہو۔ نیز جو شخص اللہ تعالی ہی کو نہیں مانتا تو اگر قانون کو نہ مانے تو تعجب کیا۔ نشہ کی حالت میں بھی طلاق پڑ جاتی ہے حدیث میں ہے ثلاث جدہن جد وہز لہن جدٌ۔ عدت کے سلسلے میں جو بات لکھی ہے اس کا بھی جواب یہی ہے کہ یہ اللہ تعالی کا بنایا ہوا قانون ہے لہٰذا یہ قانون کیوں بنایا اس کی جوابدہی ہمارے ذمہ نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند