• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 153151

    عنوان: حالت نشہ کی طلاق یا تعلیق معتبر ہے یا نہیں؟

    سوال: مجھے 15 یا 14 سال کی عمر میں ایک لڑکی سے محبت ہوگئی تھی تو اسوقت میرے گھر والے نہیں مانے تب میں بازار سے نیند کی گولیاں لی اور وہ کھا لیں تقریبا وہ 35 یا40 گولیاں تھیں پھر اسی نشے کی حالت میں میں نے قسم کھائی کہ شادی اس سے کروں گا اگر کسی اور سے ہوگئی تو اسے طلاق ہوگی، آپ کہ ذہن میں یہ بات ہوگی کہ اس کو کم عمری میں طلاق کا پتا تھا میں اس وقت ثانویہ عامہ کا طالب علم تھا، بعد میں پتہ چلا کہ اس لڑکی کے باپ نے جادو کیا تھا کیونکہ وہ یہ کام کرتا ہے ، اب میں عالم بن گیا ہوں تو گھر والے شادی کرنا چاہتے ہیں،آج جب میں وضو کر رھا تھا تب اچانک یہ بات یاد آئی کیونکہ میرے دوست نے میری بچپن کی محبت والی بات یاد دلائی تو یہ بات میرے ذہن میں آئی اور اس وقت میں نیند کی گولیوں کے نشے میں تھا میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میری شادی پر اس کا کوئی اثر ہوگا یعنی طلاق تو واقع نہیں ہوگی۔

    جواب نمبر: 153151

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1185-1284/N=12/1438

    حالت نشہ کی طلاق یا تعلیق زجراً معتبر ہوتی ہے؛ اس لیے آپ نے ۱۴یا ۱۵/ سال کی عمر میں ۳۵یا ۴۰/ نیند کی گولیاں کھاکر نشہ کی حالت میں آپ نے جو طلاق کے الفاظ کہے، یعنی: اگر کسی اور سے (شادی)ہوگئی تو اسے طلاق ہوگی، وہ شرعاً معتبر ہیں؛ لہٰذا اگر آپ کی شادی مطلوبہ لڑکی کے علاوہ کسی اور سے ہوئی تو نکاح ہوتے ہی اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور وہ آپ کی زوجیت میں آکر فوراً آپ کی زوجیت سے نکل جائے گی ؛ البتہ چوں کہ اس پر ایک ہی طلاق واقع ہوگی؛ اس لیے اس کے بعد فوراً آپ کا اس سے دوبارہ نکاح درست ہوگا اور اس دوسرے نکاح میں اس پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی؛ کیوں کہ پہلی مرتبہ میں ہی قسم پوری ختم ہوگئی۔

    اور اگر آپ پہلے کسی ایسی لڑکی سے نکاح کریں جسے نکاح میں باقی رکھنے کا ارادہ نہ ہو اور کم از کم مہر پر نکاح کریں (اورآپ پہلے ہی اسے پوری صورت حال بتادیں)تو نکاح ہوتے ہی اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور آپ پر صرف آدھا مہر واجب ہوگا اور آپ کی قسم ختم ہوجائے گی، اس کے بعد آپ اس لڑکی سے نکاح کرلیں، جس سے رشتہ طے ہو اور آپ اسے نکاح میں باقی رکھنا چاہتے ہوں۔

    ھو-أي: السکران- مکلف لقولہ تعالی:﴿لا تقربوا الصلاة وأنتم سکاری﴾،خاطبھم تعالی ونھاھم حال سکرہ، فإن کان السکر من محرم فالسکران منہ کالمکلف، ……وقدمنا فی الفوائد أنہ من محرم کالصاحي إلا في ثلاث الخ (الأشباہ والنظائر مع شرح الحموي،الفن الثالث الجمع والفرق، أحکام السکران ۳: ۳۳۱، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)، ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولو تقدیراً۔بدائع، لیدخل السکران، ولو ……سکران ولو بنبیذ أو حشیش أو أفیون أو بنج زجراً، بہ یفتی۔ تصحیح القدوري (الدر المختار مع رد المحتار، أول کتاب الطلاق، ۴: ۴۳۸ - ۴۴۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،قولہ:”لیدخل السکران“:أي: فإنہ في حکم العاقل زجراً لہ۔……،قولہ:”أو سکران“:……وبین فی التحریر حکمہ أنہ إن کان سکرہ بطریق محرم لا یبطل تکلیفہ فتلزمہ الأحکام وتصح عباراتہ من الطلاق الخ (رد المحتار)، ألفاظ الشرط: إن … ومتی ومتی ما، ففي ہٰذہالألفاظ إذا وجد الشرط انحلت الیمین وانتہت الخ (الفتاوی الھندیة، کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط ونحوہ، الفصل الأول فی ألفاظ الشرط،۱: ۴۱۵، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند