• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 151762

    عنوان: ایک طلاق کا حق دیتا ہوں سوچ سمجھ کر بتا دینا

    سوال: ایک آدمی اپنی بیوی سے کہے کہ میں شام پانچ بجے تک تمہیں ایک طلاق کا حق دیتا ہوں سوچ سمجھ کر بتا دینا، یہ کہنے کے تقریباً ایک گھنٹہ کے بعد عورت کہے ہاں ٹھیک ہے۔ آدمی نے پوچھا کیا ٹھیک ہے؟ عورت کہے کہ جو تم نے کہا تھا کہ پانچ بجے تک بتادینا میں تمہیں طلاق دیدوں گا، تو ہاں ٹھیک ہے مجھے طلاق دیدو۔ تو آدمی کہے کہ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں طلاق دوں گا بلکہ میں نے ایک طلاق کا حق تمہیں دیا تھا، اب صاف صاف بتاوٴ تم نے کیا نیت کی ہے؟ عورت کہے نہیں میں نے تو یہ سمجھا تھا کہ تم طلاق دوگے۔ کیا ا س حالت میں طلاق ہوئی یا نہیں؟ دونوں صورتوں میں کیا کرنا چاہئے؟

    جواب نمبر: 151762

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1271-1207/L=9/1438

    صورت مسئولہ میں اگر شوہر نے پانچ بجے تک بیوی کو طلاق کا اختیاردیا تھا اور بیوی نے اس مدت میں اپنے کو طلاق نہیں دیاتو کوئی طلاق واقع نہ ہوئی۔ واذا قال لہا اختاری نفسک الیوم ․․․فلہاأن تختار نفسہا مادام الوقت باقیاً․(الہندیہ:۱/۳۹۰)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند