• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 150365

    عنوان: حلالہ کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

    سوال: (۱) حلالہ کی نیت سے شادی کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نکاح کے وقت ہی یہ نیت ہو کہ طلاق لینی ہے کیا اس سے نکاح ہوگا یا نہیں؟ (۲) یہ سوال ہمارے ہندو بھائی بہت کرتے ہیں ان کو سمجھانا ہے کہ طلاق آدمی نے دی ہے اس کے بعد حلالہ کرنے کے لیے عورت کو دوسرے آدمی سے شادی کرنی ہوتی ہے اس میں عورت کی توہین ہے اس پر ظلم ہے۔ اس کی کیا مصلحت ہے؟ مہربانی کرکے سمجھائیں۔ (۳) حلالہ کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ یہ تو بتانا ہی پڑے گا کہ یہ نکاح حلالہ کے لیے کیا جارہا ہے؟

    جواب نمبر: 150365

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 954-852/H=7/1438
    (۱) ایک ساتھ تین طلاق دینا سخت مکروہ اور گناہ ہے اگر طلاق دیئے بغیر کوئی چارہٴ کار ہی نہ رہے تو ایسے طہر میں کہ جس میں تعلق زوجیت قائم نہ کیا ہو اس میں صرف ایک طلاق دیدے تاہم اگر کوئی تین طلاق ایک ساتھ دیدے تو تینوں طلاق واقع ہوکر بیوی حرام ہوجاتی ہے، البتہ بعض صورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں بہرحال ایک ساتھ تین طلاق دیدیں اور بیوی حرام ہوگئی تو اب حکم یہ ہے کہ بعد عدت مطلقہ عورت آزاد ہوگئی وہ جہاں چاہے اپنا عقد ثانی کرسکتی ہے، تین طلاق دینے والے شوہر کو اب اس عورت پر کچھ اختیار نہیں نہ عورت کو کوئی مجبور کرسکتا ہے کہ تین طلاق دینے والے سے دوبارہ نکاح کرے؛ بلکہ نکاح کرنے پر بھی کوئی جبر نہیں ہے یعنی وہ کہیں نکاحِ ثانی نہ کرے یہ بھی اس کو اختیار ہے، الغرض عورت ہرطرح سے آزاد ہے کہ تین طلاق دینے والے شخص کے علاوہ کہیں بھی نکاح کرلے یا نہ کرے، پھر مذہب اسلام میں عورت کے لیے خواہ وہ مطلقہ ہو یا بیوہ ہو نکاح ثانی کرنا نہ توہین ہے نہ ہی معیوب ہے، نہ ظلم وگناہ ہے، بلکہ عورت کی عفت وپاکدامنی کی عامةً حفاظت میں نکاح ثانی معین ہوتا ہے جو اس کے حق میں سراسر عزت وشرافت ہے، مذہب اسلام اس کے حق میں ذرہ برابر بھی توہین قرار نہیں دیتا، البتہ جن قوموں میں بیوہ یا مطلقہ کا نکاح ثانی عیب ہے ان کے یہاں نکاح ثانی کرنے میں بلاشبہ عورت کی توہین ہوسکتی ہے، باقی اہل اسلام کے یہاں ہرگز توہین نہیں، اگر مطلقہ عورت دوسرا نکاح کرے اور پھر اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ رہے سہے تعلق زوجیت قائم کرے پھر کبھی اتفاقاً دوسرا بعد ہمبستری کے طلاق دیدے یا اس کی وفات ہوجائے اور بہرصورت عدت گذرجائے تب پھر عورت کو اپنے نکاحِ جدید کا حق حاصل ہوجاتا ہے اس وقت اگر چاہے تو تین طلاق ایک ساتھ دینے والے شوہر سے بھی نکاح کرسکتی ہے اس کا نام حلالہ ہے۔ اس میں معلوم نہیں ہندو بھائیوں کو عورت کی کیا توہین دکھلائی دیتی ہے اور کیا ظلم عورت پر نظر آرہا ہے، اگر کسی کے پاس اللہ پاک کی عطا کردہ فہم سلیم ہے اور اس کی سوچ سیدھی ہے تو اس کے نزدیک تو یہ عورت پر ظلم نہیں نہ اہانت ہے، البتہ شوہر نے ایک ساتھ تین طلاق دے کر جو گناہ کیا اس کی سزا اس کو نقد بھگتنا پڑی کی بیوی سے ہاتھ دھونا پڑگیا اور اگر وہ ملے گی بھی تو دوسرے کا فراش بن کر ہی ملے گی یہ سب شوہر کے حق میں سزا ہے، ہاں کبھی یہ بھی ممکن ہے کہ خود عورت ہی تین طلاق دینے والے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہو تو شریعت نے اس کے جذبات کو کچلا نہیں بلکہ راستہ بتادیا کہ براہِ راست تو نکاح نہیں ہوسکتا البتہ دوسرے شخص سے نکاح ہو اور وہ بعد جماع طلاق دیدے یا اس کی وفات ہوجائے پھر عدت گذرجائے تب اس سے نکاح ہوگا، اگر اس طرح کے نکاح میں باقاعدہ شرط لگائی جائے تو شرط لگانا جائز نہیں، البتہ مصالح کے پیش نظر کوئی شخص نکاح کرلے پھر بعد ہمبستری طلاق دیدے اور محض دل میں یہ نیت ہو کہ یہ عورت شوہر اول کے حق میں حلال ہوجائے اور حسن معاشرت سے دونوں کی زندگی گذرجائے تو اس میں کچھ حرج نہیں۔
    (۲) نمبر (۱) کے تحت جواب آگیا پہلے آپ حضرات اچھی طرح سمجھ لیں پھر حکمت وبصیرت سے دوسروں کو سمجھائیں اللہ پاک مدد فرمائے۔ آمین
    (۳) حلالہ کا صحیح طریقہ تو نمبر (۱) کے تحت تفصیل سے لکھ دیا اگر کوئی عورت مطلقہ کسی شخص سے خوشدلی کے ساتھ برضا ورغبت نکاح کرے اور دوسرا شوہر کہ جس سے نکاح ہوا اس پر طلاق دینے کے لیے کسی بھی قسم کا کسی کی طرف سے دباوٴ نہ ہو بلکہ محض ترغیب دیدینے پر اکتفاء کیا جائے اور پھر دوسرا شوہر بعد جماع کے بخوشی طلاق دیدے تاکہ عدت گذارکر شوہر اول سے عورت کا نکاح ہوجائے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند