• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 145891

    عنوان: طلاق کے الفاظ کی ادائیگی میں میاں بیوی کے اختلاف کا حکم

    سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ میاں بیوی جن کے نام سرفراز اور سلمیٰ ہیں ان کے درمیان کچھ جھگڑوں میں طلاق کے الفاظ استعمال ہوئے اور الفاظ کی ادائیگی اور استعمال میں دونوں کا باہمی اختلاف بھی ہے ۔ ذیل میں پورے قصہ کو نمبر وار واقعات کی شکل میں ذکر کیا جارہا ہے اور اگر کسی واقعہ کے بارے میں دونوں کے موقف میں تضاد اور اختلاف ہے تو اسے بھی واضح کیا جارہا ہے واضح رہے کہ سرفراز اور سلمیٰ دونوں کے بیانات ایک مفتی صاحب نے بذات خود گواہوں کے روبرو لئے ہیں اور دونوں کے بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان مفتی صاحب نے یہ استفتاء مرتب کیا ہے ۔ واقعہ نمبر 1 تقریباً دو سال پہلے جب ایک دفعہ شوہر نے بیوی سے ہمبستری کرنا چاہی تو بیوی انکار کر رہی تھی اسپر شوہر کے بقول میں نے کہاکہ ایسے نہ کیا کر تو نے حرام ہوجانا ہے جبکہ بیوی سلمیٰ کے بیان کے مطابق مجھے یہ یاد ہیکہ شوہر نے کسی جملہ میں حرام کا لفظ استعمال کیا لیکن جملہ مجھے یاد نہیں اور میرا شوہر جو جملہ کہہ رہا ہے وہ بھی ہو سکتا ہے اس کے علاوہ کوئی جملہ بھی ہوسکتا ہے جملہ مجھے یاد نہیں لیکن حرام کا لفظ میرے شوہر نے استعمال کیا ، سلمیٰ کے بقول میں نے خاندان کے بڑوں سے بھی ذکر کیا لیکن اس پر کسی نے کوئی کارروائی نہیں کی اور ہم اس دوران اور اس کے بعد بھی میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہتے رہے ۔ واقعہ نمبر 2 اگست 2016 کے شروع میں پھر میاں بیوی میں اسی بات پر تکرار ہوئی جس پر بیوی سلمیٰ نے دوسرے کمرے میں جاکر دروازہ اندر سے بند کرلیا شوہر کے بار بار دروازہ بجانے پر بھی جب دروازہ نہیں کھولا تو سرفراز نے وہاں موجود اپنے ایک کزن کو کہاکہ تم گواہ رہنا میں اسے طلاق دینے لگا ہوں پھر کہا کہ ایک طلاق دو طلاق ، اس کے بعد بیوی نے دروازہ کھولدیا اس واقعہ یعنی دو طلاق دینے کا شوہر بھی اقرار کرتا ہے ، اس واقعہ کے بعد ایک مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھا گیا تو ان مفتی صاحب کے کہنے کے مطابق باہمی رجوع کرلیا گیا ، رجوع کئے جانے پر بھی دونوں متفق ہیں کہ رجوع کرلیا گیا تھا البتہ مفتی صاحب کو صرف واقعہ نمبر دو بتلایا گیا ، واقعہ نمبر ایک کا مفتی صاحب کے سامنے ذکر نہیں کیا گیا ۔ واقعہ نمبر 3 دوسرے واقعہ کے کچھ دن بعد بقول سلمیٰ کے میں رو رہی تھی کیونکہ میرے حساب سے دو طلاق دوسرے واقعہ والی اور ایک لفظ حرام پہلے واقعہ والا تھا جس کی وجہ سے میں سمجھ رہی تھی کہ مجھے طلاق مکمل ہو گئی ہے جبکہ میرے شوہر کا کہنا تھا کہ صرف دو طلاق ہوئی ہیں جن سے رجوع کرلیا گیا ہے اور پہلے واقعہ والا جملہ میں نے یعنی سرفراز نے ایسے نہیں کہا تھا کہ اس سے طلاق ہوتی ہو ، اس پر میں رو رہی تھی اور ہماری تکرار ہو رہی تھی تو اس پر میرے شوہر سرفراز نے میرے رونے اور اصرار پر تنگ آ کر غصے میں کہا کہ تجھے طلاق ہوئی اچھی ، یہ بیوی کا بیان ہے جبکہ شوہر اس جملے کا انکار کرتا ہے کہ میں نے مذکورہ بالا جملہ تجھے طلاق ہوئی اچھی کبھی استعمال ہی نہیں کیا ۔ واقعہ نمبر 4 سلمیٰ کے بیان کے مطابق چند روز بعد ایک دن میں نے سرفراز کو کہاکہ میں نے تمہاری بہن یعنی اپنی نند کے گھر جانا ہے کئی دفعہ میرے کہنے پر اس نے کہا کہ اگر تم میری بہن کے گھر گئیں تو میری طرف سے تمہیں تیسری طلاق بھی ہوجائیگی شوہر سرفراز کا اس بارے میں بیان یہ ہے کہ میں نے سلمیٰ کو کہاکہ آج تو نے میری بہن کے گھر نہیں جانا اگر گئیں تو تمہیں میری طرف سے تیسری بھی ہو جائیگی ، میری طرف سے اسے صرف اسی دن کی بندش تھی دوسرے دن تو میں نے اسے خود کہاتھا کہ چلو آج میری بہن کے گھر چلتے ہیں ، لیکن سلمیٰ کے بیان کے مطابق مجھے پوری طرح یاد نہیں ہے کہ شوہر نے اس شرط کو آج کے ساتھ مقید کیا تھا یا نہیں ، بہرحال اب تک سلمیٰ اپنی اس نند کے گھر نہیں گئی ہے ۔ ( آئندہ کے لئے یہ تعلیق ہے یا نہیں ؟ یہ آپ حضرات جواب میں وضاحت فرمادیں )۔ واقعہ نمبر 5 سرفراز اور سلمیٰ ان دنوں عمرکوٹ میں کرائے کے گھر میں رہ رہے تھے بقول بیوی سلمیٰ کے کہ میں نے اصرار کیا کہ میں نے گاؤں اپنے سسرالی گھر میں جانا ہے جبکہ شوہر عمرکوٹ میں ہی رہنے پر بضد تھے ، اس پر کافی تکرار ہوئی جس پر بیوی کے بقول سرفراز نے کہاکہ میری طرف سے فل فلیش آزاد ہو جہاں جانا ہے چلی جاو میں تمہیں نہیں روکتا لیکن تم اپنے باپ کو نہ بلاوو بلکہ میں اپنے بھائی کو بلاتا ہوں وہ آکر تمہیں لے جائیگا جس پر میں راضی ہوگئی اور دو دن بعد میرا دیور آکر مجھے لے گیا یہ بیوی کا بیان ہے جبکہ شوہر اس واقعہ میں ان الفاظ کی ادائیگی کا انکار کر رہا ہے کہ مذکورہ بالا الفاظ میری طرف سے تم فل فلیش آزاد ہو جہاں جانا ہے چلی جاو میں تمہیں نہیں روکتا یہ الفاظ میں نے ادا نہیں کئے بلکہ شوہر کے بقول میری بیوی نے خود اس موقعہ پر تلخ کلامی کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے آزادکردو ۔ میں نے آزاد ہو کے الفاظ استعمال نہیں کئے ۔ اب ان تمام مذکورہ بالا واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے درج ذیل سوالات کے جواب درکار ہیں ۔ ( 1 ) مسماة سلمیٰ پر اب تک مجموعی طور پر کتنی طلاق واقع ہو چکی ہیں ؟ ( 2 ) اب ان میاں بیوی کیلئے کیا حکم ہے ؟ کیا وہ دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں یا نہیں ؟ اگر کوئی شرائط ہوں تو بھی آگاہ فرمادیں ۔ ( 3 ) واقعہ نمبر چار والی تعلیق اب باقی ہے یا نہیں ؟ ( 4 ) واقعہ نمبر ایک ، نمبر دو ، اور نمبر پانچ میں کوئی طلاق ہوئی یا نہیں ؟ براہ کرم مذکورہ بالا سوالات کے جواب دے کر ممنون فرمائیں۔

    جواب نمبر: 145891

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 119-307/L=4/1438

    (۲) (۲) (۳) (۴) صورت مسئولہ میں شوہر نے طلاق کے تعلق سے متعدد الفاظ استعمال کیے ہیں ان میں سے ہرایک کی تفصیل مع حکم بیان کی جاتی ہے۔

    واقعہ نمبر (۱) شوہر کا یہ کہنا ایسے نہ کیا کر تو نے حرام ہوجانا ہے یہ محض دھمکی کا جملہ ہے جس سے کوئی طلاق بیوی پر واقع نہ ہوئی، واقعہ نمبر (۲) میں شوہر نے صراحتاً ایک طلاق دو طلاق کا استعمال کیا ہے اس میں اگر شوہر نے ”دو طلاق“ سے پہلی طلاق کے علاوہ دو طلاق مراد نہ لیا ہو تو صرف دو طلاق رجعی بیوی پر واقع ہوئی تھی جس میں شوہر کو رجعت کرنے کا اختیار تھا، اگر شوہر نے اس کے بعد عدت میں رجعت کرلی تھی تو رجعت ہوگئی تھی اور زوجین کا ساتھ رہنا درست ہوگیا تھا۔ واقعہ نمبر (۳) میں تو اولاً شوہر طلاق کا منکر ہے اور اگر بیوی کی بات درست مان لی جائے تو اس میں سابقہ طلاق کی خبر مذکور ہے جس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، چوتھے واقعہ میں چونکہ سلمیٰ (بیوی) اپنے نند کے گھر نہیں گئی ہے تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور مذکورہ بالا صورت میں اگر شوہر کو یقین کے ساتھ یہ یاد ہے کہ اس نے طلاق کو خاص اسی دن اپنی بہن کے گھر جانے پر معلق کیا تھا تو اسی کا قول معتبر ہوگا ، پانچویں واقعہ میں اگر بیوی کی بات درست تسلیم کرلی جائے سیاق وسباق سے پتہ چلتا ہے کہ شوہر جانے میں آزادی دے رہا ہے اس لیے اس صورت میں بھی کوئی طلاق واقع نہ ہوئی۔ خلاصہ کلام یہ کہ مسماة سلمیٰ پر دو طلاق رجعی واقع ہوئی اگر زوجین ساتھ رہنا چاہیں تو تاوقت عدت رجعت کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں اور اگر حسب سابق وہ مثل زوجین رہتے ہوں تو رجعت بھی ہوگئی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند