• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 14150

    عنوان:

     میری شادی کو پانچ سال ہوئے کوئی اولاد نہیں ہے ہم کویت میں ہیں۔ ابھی تک ٹھیک چل رہا تھا ہم میں کبھی تکرار ہوجاتی تھی، اب بیوی کے کام پر لگنے کے بعد کسی نے کہہ دیا کہ اولاد نہیں تو خلع لے کر الگ ہوجاؤ۔ بیوی خلع چاہتی ہے اور میں نہیں چاہتا۔ بیوی خلع کے لیے کسی کو بھی بلانا نہیں چاہتی۔ میرا کہنا ہے گھر پر چل تیرے ماں باپ کی حاضری میں تجھے خلع کر دوں گا۔ اور وہ انڈیا جانا نہیں چاہتی ۔کیا میرا یہ کہنا غلط ہے؟

    سوال:

     میری شادی کو پانچ سال ہوئے کوئی اولاد نہیں ہے ہم کویت میں ہیں۔ ابھی تک ٹھیک چل رہا تھا ہم میں کبھی تکرار ہوجاتی تھی، اب بیوی کے کام پر لگنے کے بعد کسی نے کہہ دیا کہ اولاد نہیں تو خلع لے کر الگ ہوجاؤ۔ بیوی خلع چاہتی ہے اور میں نہیں چاہتا۔ بیوی خلع کے لیے کسی کو بھی بلانا نہیں چاہتی۔ میرا کہنا ہے گھر پر چل تیرے ماں باپ کی حاضری میں تجھے خلع کر دوں گا۔ اور وہ انڈیا جانا نہیں چاہتی ۔کیا میرا یہ کہنا غلط ہے؟

    جواب نمبر: 14150

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1043=1043/م

     

    بلاعذر شرعی طلاق وخلع کا مطالبہ ہی درست نہیں، حدیث میں ہے کہ ایسی عورت پر جنت کی خوشبو حرام ہے جو بلاضرورت طلاق کا مطالبہ کرے، أیما امرأة سألت زوجَہا طلاقًا في غیر ما بأس فحرامٌ علیھا رائحةُ الجنة (مشکاة شریف) صورت مذکورہ میں اولاد کا نہ ہونا کوئی شرعی عذر نہیں، خدائی مشیت پر راضی رہنا چاہیے، ہاں اگر شوہر کے اندر کوئی ایسی کمی یا عیب ہو جو فسخ وتفریق کا سبب ہوسکتا ہو تو اور بات ہے، مسئولہ صورت میں اگر بیوی خلع پر بضد ہو اور آپ بھی اس کو منظور کرتے ہوئے بذریعہ خلع الگ کردینا ہی بہتر سمجھتے ہیں تو اس کے لیے اگرچہ کسی کو بلانے کی ضرورت نہیں، شوہر بیوی کی رضامندی کے ساتھ خلع کے الفاظ ادا کرلینا کافی ہے، البتہ ماں باپ کی غیرموجودگی میں خلع ہونے کی وجہ سے کسی فتنہ یا مفسدہ کا اندیشہ ہو تو پھر آپ کا مشورہ بالکل درست ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند