• معاشرت >> طلاق و خلع

    سوال نمبر: 10494

    عنوان:

    اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلا ق کی دھمکی دیتا ہے لیکن طلاق نہیں دیتا ہے تو کیا اس سے نکاح پر اثر پڑے گا؟ مثلاً اگر وہ کہتا ہے کہ اگر وہ اپنا طور طریقہ اور رویہ اور طرز تبدیل نہیں کرے گی ،تو یہ طلاق کا سبب بن سکتا ہے (اگر اس کی نیت طلاق کی دھمکی دینا ہے لیکن اس نے اس کو نہیں دیا ہے لیکن اس کو وارننگ دیتا ہے)۔

    سوال:

    اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلا ق کی دھمکی دیتا ہے لیکن طلاق نہیں دیتا ہے تو کیا اس سے نکاح پر اثر پڑے گا؟ مثلاً اگر وہ کہتا ہے کہ اگر وہ اپنا طور طریقہ اور رویہ اور طرز تبدیل نہیں کرے گی ،تو یہ طلاق کا سبب بن سکتا ہے (اگر اس کی نیت طلاق کی دھمکی دینا ہے لیکن اس نے اس کو نہیں دیا ہے لیکن اس کو وارننگ دیتا ہے)۔

    جواب نمبر: 10494

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 144=144/ م

     

    اگر مذکورہ طریقے پر صرف طلاق کی دھمکی دیتا ہے، انشاء طلاق کا کوئی لفظ نہیں کہتا، تو اس سے نکاح پرکوئی اثر نہیں پڑتا، لیکن واضح رہے کہ طلاق کا معاملہ بہت نازک ہے، مذاق میں بھی طلاق کا لفظ بول دینے سے طلاق ہوجاتی ہے، اسی طرح ایقاعِ طلاق کا صریح لفظ بول دینے سے بھی طلاق پڑجاتی ہے، چاہے اس نے طلاق دینے کی نیت نہ کی ہو، اس لیے آئندہ احتیاط کی ضرورت ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند