• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 859

    عنوان:

    میرے دفتر میں میرے ساتھی کا تعلق اہل حدیث سے ہے، وہ کہتے ہیں کہ وضو کے بعد ہاتھ میں تھوڑا سا پانی لے کر شرم گاہ کی جگہ پر چھینٹ مارنا سنت ہے، کیا یہ صحیح ہے؟

    سوال:

    میرے دفتر میں میرے ساتھی کا تعلق اہل حدیث سے ہے، وہ کہتے ہیں کہ وضو کے بعد ہاتھ میں تھوڑا سا پانی لے کر شرم گاہ کی جگہ پر چھینٹ مارنا سنت ہے، کیا یہ صحیح ہے؟

    جواب نمبر: 859

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 687/ب=652/ب)

     

    وضو کے بعد پانی کی چھینٹیں اپنی شرمگاہ پر مارنا نہ تو فرض و واجب ہے نہ سنت ہے۔ ہاں اگر کسی کو وسوسہ ہو تو وہ اپنی شرمگاہ کی جگہ پر پانی کی چھینٹیں مارسکتا ہے۔ جیسا کہ ترمذی شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ إن النبي صلی اللّہ علیہ وسلم قال: جاء ني جبرئیل، فقال: یا محمد! إذا توضأت فانتضح۔ (ص:۱۷، مطبوعہ اشرف بکڈپو دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند