• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 69093

    عنوان: کیا غسل کرتے وقت بسم اللہ پڑھ سکتے ہیں؟

    سوال: کیا غسل کرتے وقت بسم اللہ پڑھ سکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 69093

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1086-1044/Sd=1/1437 غسل جنابت میں غسل شروع کرنے سے پہلے آغاز عمل کی نیت سے زبان سے بسم اللہ پڑھنے میں مضائقہ نہیں؛ لیکن کپڑے اتارنے کے بعد یا غسل خانے میں داخل ہونے کے بعد زبان سے بسم اللہ نہیں پڑھنی چاہیے ۔ قال الکاسانی: والصحیح قول العامة لما روینا من المحدثین من غیر فصل بین القلیل والکثیر، ولأن المنع من القرا ء ة لتعظیم القرآن ومحافظة حرمتہ، وہذا لا یوجب الفصل بین القلیل والکثیر، فیلزم ذلک کلہ؛ لکن اذا قصد التلاوة، فأما اذا لم یقصد بأن قال: باسم اللّٰہ لافتتاح الأعمال تبرکاً، لا بأس بہ۔ (بدائع الصنائع: ۱۵۰/۱، کتاب الطہارة) وآدابہ (الغسل) کآدابہ۔ قال الشرنبلالی: ویستحب أن لا یتکلم بکلام مطلقاً، أما کلام الناس، فلکراہتہ حال الکشف، وأما الدعاء؛ فلأنہ فی مصب المستعمل ومحل الأقذار والأوحال۔ (الدر المختار مع رد المحتار: ۲۹۱/۱، کتاب الطہارة)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند