• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 65560

    عنوان: کبھی کبھی بہت تھوڑا ساپانی سے نکل جاتاہے شرمگاہ سے اور کپڑے پہ بھی لگ جاتاہے تو کیا ہم ناپاک ہوگئے؟ غسل

    سوال: کبھی کبھی بہت تھوڑا ساپانی سے نکل جاتاہے شرمگاہ سے اور کپڑے پہ بھی لگ جاتاہے تو کیا ہم ناپاک ہوگئے؟ غسل کرنا ضروری ہے؟ یا نہیں؟ اگر صرف شرمگاہ کو دھویا اوکپڑے کو نہیں دھویا تو پاک ہوجائیں گے یا نہیں؟اور اگر دونوں جگہوں کو دھویا تو پاک ہوجائیں گے یا نہیں؟ نماز ہوجائے گی یا نہیں؟

    جواب نمبر: 65560

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 893-886/N=9/1437 (۱- ۴) : بعض لوگوں کو کبھی شہوانی خیال و تصور یا کسی نامناسب جگہ نظر پڑجانے سے جو سفید، صاف وشفاف، چکنااور لیس دار مادہ نکل آتا ہے، یہ عام طور پر مذی ہوتی ہے اور مذی سے صرف وضو ٹوتتا ہے، غسل واجب نہیں ہوتا، البتہ چوں کہ یہ ناپاک مادہ ہے؛ اس لیے کپڑے یا بدن کے جس حصے میں لگے گا، وہ ناپاک ہوجائے گا اور اسے دھونا ہوگا، اور اگر اس کی مجموعی مقدار پھیلاوٴ میں ایک روپے سے زائد ہو تو اسے دھوئے بغیر نماز نہ ہوگی، اور ایک روپے کے برابر یا اس سے کم ہو تو کراہت کے ساتھ نماز ہوسکتی ہے، البتہ دھولینا چاہئے، اس قدر ناپاکی کے ساتھ بھی نماز پڑھنا اچھا نہیں، و لا عند مذي أو ودي بل الوضوء منہ ومن البول جمیعاً علی الظاہر (در مختار مع شامی ۱: ۳۰۴، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)، وعفا الشارع عن قدر درھم ……وھو مثقال عشرون قیراطاً في نجس کثیف لہ جرم وعرض مقعر الکف، …… في رقیق من مغلظة کعذرة آدمي، وکذا کل ما خرج منہ موجبا لوضوء أو غسل مغلظ الخ (در مختار مع شامی ۱: ۵۲۰- ۵۲۳)، والأقرب أن غسل الدرھم وما دونہ مستحب مع العلم بہ والقدرة علی غسلہ فترکہ حینئذ خلاف الأولی، نعم الدرھم غسلہ آکد فترکہ أشد کراھة کما یستفاد من غیرما کتاب من مشاھیر کتب المذھب الخ (شامی ۱: ۵۲۰، ۵۲۱)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند