• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 65382

    عنوان: شہوت کے وقت منی نہ نکلے، لیکن اگر بعد میں نکلتی ہے بنا کسی جوش یا شہوت کے تو کیا کرنا چاہئے؟ غسل کرنا لازمی ہوگا اس صورت میں؟

    سوال: شہوت کے وقت منی نہ نکلے، لیکن اگر بعد میں نکلتی ہے بنا کسی جوش یا شہوت کے تو کیا کرنا چاہئے؟ غسل کرنا لازمی ہوگا اس صورت میں؟

    جواب نمبر: 65382

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 772-770/N=8/1437 غسل واجب ہونے کے لیے منی کا اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہونا کافی ہے، ذکر (عضو تناسل) سے نکلتے وقت شہوت کا پایا جانا شرط نہیں ، حضرات طرفین :امام ابو حنیفہ اور امام محمد  کا یہی مسلک ہے اور سخت ضرورت ومجبوری کے علاوہ عام حالات میں اسی پر فتوی ہے، پس اگر منی اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہوئی تو اگر چہ ذکر سے نکلتے وقت شہوت اور جوش کچھ نہ پایا جائے تب بھی غسل فرض ہوجائے گا، ثم المعتبر عند أبي حنیفة ومحمد انفصالہ عن مکانہ علی وجہ الشہوة، وعند أبي یوسف ظہورہ أیضا (الہدایة ۱:۳۱،ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، وفرض الغسل عند خروج مني من العضو ……منفصل عن مقرہ ھو صلب الرجل وترائب المرأة ……بشھوة أي: لذة……وإن لم یخرج من رأس الذکر بھا وشرطہ أبو یوسف، وبقولہ یفتی في ضیف خاف ریبة واستحیٰ کما فی المستصفی وفي القہستاني، والتاترخانیة معزیا للنوازل: وبقول أبي یوسف نأخذ؛ لأنہ أیسر علی المسلمین، قلت ولا سیما في الشتاء والسفر (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطھارة، موجبات الغسل ۱: ۲۹۵- ۲۹۷،ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ:”قلت الخ“:ظاہرہ المیل ؛ لی اختیار ما فی النوازل ولکن أکثر الکتب علی خلافہ حتی البحر والنھر ولا سیما قد ذکروا أن قولہ قیاس وقولھما استحسان وأنہ الأحوط فینبغی الإفتاء بقولہ في مواضع الضرورة (رد المحتار ۱: ۲۹۷)، وتقییدہ بالضیف یفید أن الفتوی علی قولھما في غیرہ، وبہ صرح فی البحر عن السراج (حاشیة الطحطاوی علی الدر ۱: ۹۱،ط: مکتبة الاتحاد دیوبند)، أجازوا للمسافر والضیف الذي خاف الریبة أن یأخذ بقول أبي یوسف بعدم وجوب الغسل علی المحتلم الذي أمسک ذکرہ عند ما أحس بالاحتلام إلی أن فترت شہوتہ ثم أرسلہ مع أن قولہ ہذا خلاف الراجح في المذہب لکن أجازوا الأخذ بہ للضرورة (شرح عقود رسم المفتي ۱۰۱،ط: سہارنبور) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند