• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 6296

    عنوان:

    میں ایام حیض میں قرآن کی تلاوت کے بارے میں جاننا چاہتاہوں۔ کیا اس وقت عورت دل میں قرآن پڑھ سکتی ہے؟ کیا قرآن کو بغیر چھوئے ہوئے ہلکی آواز سے پڑھ سکتے ہیں؟ (۲) شادی کی تجویز کے لیے ہمیں کتنی مرتبہ استخارہ کرنا چاہیے؟ استخارہ اہم ہے یا نہیں؟ کیا ہم بغیر استخارہ کئے ہوئے اللہ کے نام سے کام شروع کرسکتے ہیں؟ کون سا اچھا طریقہ ہے؟ برائے کرم استخارہ کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔

    سوال:

    میں ایام حیض میں قرآن کی تلاوت کے بارے میں جاننا چاہتاہوں۔ کیا اس وقت عورت دل میں قرآن پڑھ سکتی ہے؟ کیا قرآن کو بغیر چھوئے ہوئے ہلکی آواز سے پڑھ سکتے ہیں؟ (۲) شادی کی تجویز کے لیے ہمیں کتنی مرتبہ استخارہ کرنا چاہیے؟ استخارہ اہم ہے یا نہیں؟ کیا ہم بغیر استخارہ کئے ہوئے اللہ کے نام سے کام شروع کرسکتے ہیں؟ کون سا اچھا طریقہ ہے؟ برائے کرم استخارہ کے بارے میں تفصیل سے بتائیں۔

    جواب نمبر: 6296

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 728=683/ ل

     

    حائضہ عورت کے لیے دل میں قرآن مجید سوچنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ زبان سے تلاوت کرنا خواہ ہلکی ہی آواز سے ہو حرام ہے، الا یہ کہ وہ بطور دعاء کے دعائیہ آیتوں کو پڑھے تو اس کی گنجائش ہے۔

    (۲) بہتر طریقہ استخارہ کا ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو کثرت سے استخارہ کرنے کی ترغیب دی ہے، استخارہ کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے دل میں ایک پہلو کرنے یا نہ کرنے کا راسخ ہوجاتا ہے اور دوسرا پہلو دل سے نکل جاتا ہے بشرطیکہ آدمی خالی الذہن ہوکر اللہ کی طرف متوجہ رہے، ایک شق کو دل میں جماکر استخارہ نہ کرے ورنہ استخارہ کا نتیجہ بسا اوقات نہیں نکلتا، استخارہ کا طریقہ بہشتی زیور وغیرہ میں مذکور ہے، اس کو مطالعہ کرکے اسی کے مطابق استخارہ کیا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند