• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 606771

    عنوان:

    مسح راس کا مسنون طریقہ

    سوال:

    میں جانتا ہوں کہ سر کے بالوں پر مسح کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ پیشانی سے گیلی انگلیاں پیچھے گدی تک لائی جائیں اور پھر وہی دوبارہ واپس پیشانی تک لے کر جاء جائیں۔ 1۔ لیکن میرے سر کے بال لمبے ہیں (جیسے زلفیں رکھی جاتی ہیں)، اور اگر میں پورے سر پر گدی تک مسح کرکے دوبارہ پیشانی پر انگلیاں لے کر جاؤں تو بال بکھر جاتے ہیں۔ جسکی وجہ سے ہر وضو کے بعد الگ سے مجھے بال سیٹ کرنے پڑتے ہیں۔ میں نے کچھ احادیث میں پڑھا ہے کہ حضور ﷺ سے صرف پیشانی سے گدی تک ایک بار ہاتھ پھیرنے سے بھی سر کا مسح کرنا ثابت ہے ۔ مجھے معلوم ہے کہ مسح کا فرض صرف چوتھاء سر کے مسح سے ہی ادا ہوجاتا ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک بار پیشانی سے گدی تک مسح کرنے سے مسح کا مسنون طریقہ ادا ہوجاتا ہے ؟ اور مسلسل اس بات کا معمول بنالینے میں کوئی قباحت تو نہیں اگر بال لمبے ہوں (یا چھوٹے بالوں میں بھی)؟

    2۔ نیز مجھے عورتوں کے مسح کرنے کا بھی مکمل طریقہ کار بتا دیں۔ کیونکہ عورتوں کے بال مَرد و ں سے بھی لمبے ہوتے ہیں، اور ان کے لیے مردوں کی طرح سر کامسح کرنے میں زیادہ دشواری ہوتی ہے بالوں کے معاملے میں۔

    جواب نمبر: 606771

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:276-136/sn=3/1443

     صورت مسئولہ میں اگر آپ سر کے ابتدائی حصہ پر دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں اور انگلیا ں رکھ کر گردن تک اس طرح لے جائیں کہ پورے سر کا احاطہ ہوجائے تو سنتِ مسح پر عمل ہوجائے گا، حضرات فقہا نے عموما اسی طریقے کا ذکر کیا ہے ، بعض روایاتِ حدیث میں بھی صراحتا یہی طریقہ مروی ہے ، آپ کے لیے اس کا معمول بنالینے کی بھی گنجائش ہے ۔عورتیں بھی مردوں کی طرح مسح کریں گی، دونوں کے مسح میں کوئی فرق نہیں ہے ؛ البتہ یہ معلوم رہنا چاہیے کہ مسح صرف ان بالوں پر ہوگا جو سر پر ہوں، گدی کے نیچے لٹکے ہوئے بالوں پر مسح کا حکم نہیں ہے ۔ یہ حکم عورتوں اور بڑے بال رکھنے والے مردوں دونوں کے حق میں ہے ۔

    عن طلحة بن مصرف، عن أبیہ، عن جدہ قال: رأیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم مسح مقدم رأسہ حتی بلغ القذال. مؤخر الرأس من مقدم عنقہ(شرح معانی الآثار 1/ 30، رقم:129]

    وتکلموا فی کیفیة المسح. والأظہر أن یضع کفیہ وأصابعہ علی مقدم رأسہ ویمدہما إلی القفا علی وجہ یستوعب جمیع الرأس ثم یمسح أذنیہ بأصبعیہ. اہ. وما قیل من أنہ یجافی المسبحتین والإبہامین لیمسح بہما الأذنین والکفین لیمسح بہما جانبی الرأس خشیة الاستعمال، فقال فی الفتح: لا أصل لہ فی السنة؛ لأن الاستعمال لا یثبت قبل الانفصال، والأذنان من الرأس. [الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 1/ 243، کتاب الطہارة، مطبوعة: مکتبة زکریا، دیوبند، الہند)

    ﴿وکیفیة الاستیعاب أن یأخذ الماء ویبلّ کفیہ وأصابعہ ثم یلصق الأصابع﴾ أی یضمہا ﴿ویضع علی مقدم رأسہ من کل ید ثلاث أصابع﴾الخنصر والبنصر والوسطی ﴿ویمسک إبہامیہ وسبابتیہ﴾ مرفوعات ﴿ویجافی بطن کفیہ عن رأسہ، ویمدہما﴾ أی یدیہ ﴿إلی القفا، ثم یضع کفیہ علی جانبی الرأس، ویمسحہما﴾ أی جانبی الرأس بکفیہ ﴿ویمسح ظاہر أذنیہ بباطن إبہامیہ وباطن أذنیہ بباطن مسبّحتیہ﴾.(غنیة المتملی،1/87، مطلب فی کیفیة استیعاب الرأس بالمسح، مطبوعة: دارالعلوم/ دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند